حیدرآباد۔/18اپریل، ( سیاست نیوز) چیف منسٹر کے چندر شیکھر راؤ نے ضلع کلکٹرس کو ہدایت دی کہ وہ اقلیتوں، پسماندہ طبقات اور درج فہرست اقوام و قبائیل سے تعلق رکھنے والے نوجوانوں کو روزگار کے مواقع فراہم کرنے کے اقدامات کریں۔ کلکٹرس کانفرنس کے دوسرے دن اقلیتوں اور دیگر طبقات کی بھلائی سے متعلق اسکیمات کا چیف منسٹر نے جائزہ لیا۔ انہوں نے ضلع کلکٹرس اور عہدیداروں کو ہدایت دی کہ وہ اسکیمات پر موثر عمل آوری کو یقینی بنائیں کیونکہ گزشتہ سال اسکیمات پر مکمل طور پر عمل نہیں کیا جاسکا۔ چیف منسٹر نے ضلع کلکٹرس سے کہا کہ ترقیاتی اسکیمات کے ساتھ ساتھ فلاحی اسکیمات پر خصوصی توجہ دی جائے تاکہ اقلیتوں اور دیگر طبقات کے معیار زندگی کو بہتر بنایا جاسکے۔ چیف منسٹر نے کہا کہ اقلیتوں خاص طور پر مسلمانوں میں کافی غربت پائی جاتی ہے اور حکومت مختلف اسکیمات میں مسلمانوں کو شامل کرتے ہوئے معاشی پسماندگی کے خاتمہ کی خواہاں ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہاوزنگ، ڈی آر ڈی اے اور دیگر اسکیمات میں مسلمانوں کی حصہ داری انتہائی کم ہے۔ ضلع کلکٹرس کو اس کی وجوہات کا جائزہ لینا چاہیئے۔ چیف منسٹر نے کہا کہ مواضعات، نیم شہری اور شہری علاقوں سے تعلق رکھنے والے مسلمانوں کی بھلائی کیلئے جن اسکیمات کی ضرورت ہے اس پر ضلع کلکٹرس کو رپورٹ تیار کرتے ہوئے حکومت کو تجاویز پیش کرنی چاہیئے۔ انہوں نے کہا کہ موجودہ اسکیمات کے علاوہ نئی اسکیمات کے بارے میں بھی حکومت سے سفارش کی جاسکتی ہے۔ چیف منسٹر نے کہا کہ ہر ضلع میں اقلیتوں کیلئے دو اقامتی اسکولس قائم کئے جائیں گے جن میں سے ایک بوائز اور دوسرا گرلز ریزیڈنشیل اسکول ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ تعلیم کے شعبہ میں حکومت اقلیتوں اور دیگر کمزور طبقات کو ہر ممکن تعاون کرے گی۔ انہوں نے پیشہ ورانہ کورسیس اور روزگار سے مربوط کورسیس میں طلبہ کی رہنمائی کیلئے ہر ضلع میں اسٹڈی سرکل کے قیام کی ہدایت دی۔ چیف منسٹر نے کہا کہ مسابقتی امتحانات میں طلبہ کو ضروری کوچنگ کے علاوہ روزگار سے مربوط کورسیس کے سلسلہ میں بھی رہنمائی کی جانی چاہیئے۔ انہوں نے کہا کہ صرف ریاست میں دستیاب روزگار کے مواقع کے علاوہ دیگر ریاستوں میں روزگار کے مواقع کے سلسلہ میں نوجوانوں کی رہنمائی کی جانی چاہیئے تاکہ وہ مکمل تیاری کے ساتھ رجوع ہوسکیں۔ انہوں نے ضلع کلکٹرس اور سپرنٹنڈنٹس پولیس کو ہدایت دی کہ وہ طلبہ کی بہتر ٹریننگ پر خصوصی توجہ دیں تاکہ بیروزگاری کا مسئلہ حل ہوسکے۔ انہوں نے لڑکیوں کی تعلیم پر خصوصی توجہ دینے پر زور دیا اور کہا کہ لڑکیوں کے اسکولوں میں تمام سہولتوں کی فراہمی ضلع کلکٹرس کی ذمہ داری ہے۔ انہوں نے کہا کہ بیرون ریاست امتحانات کی تیاری اور ملازمت کے سلسلہ میں طلبہ کو انگلش کے ساتھ ہندی زبان کی بھی تعلیم دی جائے۔ چندر شیکھر راؤ نے کے جی تا پی جی مفت تعلیم کی فراہمی سے متعلق حکومت کے وعدہ کا اعادہ کرتے ہوئے کہا کہ اس مقصد کی تکمیل کیلئے جامع حکمت عملی تیار کی جارہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ تمام طبقات اور ذاتوں سے تعلق رکھنے والوں کو ایک ہی مقام پر تعلیم کے انتظام کیلئے حکومت اقدامات کررہی ہے۔ تجرباتی طور پر آئندہ سال سے اقامتی مدارس قائم کئے جائیں گے جس میں تمام طبقات کے طلبہ کو داخلے دیئے جائیں گے۔ انہوں نے اقلیتوں کی تعلیم پر خصوصی توجہ دینے ضلع کلکٹرس کو ہدایت دی۔ چیف منسٹر نے کہا کہ تعلیم کو عام کرنے کے مقصد سے مواضعات میں موجود سرکاری مدارس کو برقرار رکھا جائے گا اور اس میں انفراسٹرکچر اور دیگر سہولتیں فراہم کی جائیں گی۔ انہوں نے کہا کہ ہر ضلع میں تیسری جماعت تک تعلیم کا مقامی سطح پر انتظام کیا جائے گا تاکہ زیادہ سے زیادہ بچے مدارس میں شریک کئے جائیں۔ انہوں نے مواضعات کی سطح پر اسکولوں کی حالت کے بارے میں ضلع کلکٹرس سے معلومات حاصل کیں۔ چیف منسٹر نے کہا کہ اساتذہ کی کمی کو دور کرنے کے ساتھ ساتھ طلبہ کیلئے بنیادی سہولتوں کی فراہمی پر توجہ دی جائے جس میں بیت الخلاء کی تعمیر اہمیت کی حامل ہے۔ صاف پینے کے پانی اور برقی کی سربراہی پر بھی توجہ دینے ضلع کلکٹرس کو ہدایت دی گئی۔ انہوں نے کہا کہ ریاست میں سرسبزی و شادابی سے متعلق ہریتا ہارم پروگرام پر اسکولوں میں عمل کرتے ہوئے زیادہ سے زیادہ شجر کاری کو یقینی بنایا جائے۔ چیف منسٹر نے تجویز رکھی کہ آئی اے ایس اور آئی پی ایس عہدیداروں کے بچے بھی سرکاری مدارس میں تعلیم حاصل کریں تو اس سے سرکاری مدارس کی صورتحال بہتر بنانے میں مدد ملے گی۔ انہوں نے اساتذہ کی جانب سے خدمات میں تساہل کی شکایات کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ خواندگی میں اضافہ میں اساتذہ کا اہم رول ہے اور انہیں پوری ذمہ داری کے ساتھ خدمات انجام دینا چاہیئے۔ چیف منسٹر نے دلت طبقہ کی فلاح و بہبود اور غربت کے خاتمہ سے متعلق حکومت کے منصوبوں کا اعادہ کیا اور کہا کہ ہر بے گھر خاندان کو تین ایکر اراضی کی فراہمی کی اسکیم پر عمل کیا جارہا ہے۔ انہوں نے دلت طبقہ سے تعلق رکھنے والے صنعت کاروں کو زائد مراعات کی فراہمی کا بھی تیقن دیا۔