ممبئی ۔ 18 ۔ مئی : ( سیاست نیوز ) : ہندوستانی مسلمانوں کی معاشی و سماجی حالت کو بہتر بنانے کے ساتھ ان کے حقوق کے تحفظ اور انہیں انصاف رسانی کے عمل کو تیز کرنے کے لیے یہ ضروری ہے کہ قومی سطح پر مہم چلائی جائے ۔ ہندوستان میں مسلم سیاسی قیادت کے مدعی ناکام ہوچکے ہیں اور حیدرآباد میں ہوئے 5 مسلم نوجوانوں کے فرضی انکاونٹر پر خاموش تماشائی بنے ہوئے ہیں ۔ سماج وادی پارٹی ان نوجوانوں کو انصاف دلوانے کے لیے 13 جون کو حیدرآباد میں ’ چلو حیدرآباد ‘ ظلم کے خاتمے اور انصاف کے حصول کے لیے مہادھرنا منعقد کرے گی ۔ صدر سماج وادی پارٹی مہاراشٹرا اور رکن اسمبلی جناب ابو عاصم اعظمی نے آج ممبئی میں منعقدہ ایک عظیم الشان احتجاجی جلسہ عام سے خطاب کے دوران یہ بات کہی ۔ انہوں نے بتایا کہ ریاست تلنگانہ میں مسلم قیادت ہونے کے باوجود مسلمان حصول انصاف سے محروم ہیں اور قیادت کے دعویدار ملک بھر میں کامیاب نمائندگی کا دعویٰ کرتے پھر رہے ہیں ۔ انہوں نے قومی سطح پر مسلمانوں کے ساتھ فرقہ پرست تنظیموں کے رویہ پر حکومت کی خاموشی کو سخت تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ ملک بھر میں مسلمانوں کے تعلق سے نفرت کے ماحول کو فروغ دیا جارہا ہے اس ماحول سے حالات خراب ہونے کے خدشات ہیں ۔ جناب ابوعاصم اعظمی نے کہا کہ ہندوستان پر مسلم اقلیت کا حق زیادہ ہے اور مسلمان ملک کے وفادار شہری ہیں چونکہ ان کے پاس تقسیم کے وقت متبادل موجود تھا اس کے باوجود مسلمانوں نے وطن عزیز کو پسند کیا ۔ انہوں نے ریاست تلنگانہ میں مسلم نوجوانوں کے انکاونٹر کو انتہائی سفاکانہ قتل قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس قتل کی ذمہ داری حکومت پر عائد ہوتی ہے اور اس قتل کو نہ روک پانے کے علاوہ انصاف دلانے میں ناکامی کی ذمہ داری مقامی مسلم سیاسی قیادت پر عائد ہوتی ہے ۔ انہوں نے کہا کہ سی بی آئی یا ہائی کورٹ کے برسر خدمت جج سے اس معاملہ کی تحقیقات ، اس سفاکانہ قتل میں شہید ہونے والے نوجوانوں کے ورثاء کو 20 لاکھ روپئے ایکس گریشیا اور ایک فرد خاندان کو ملازمت کا مطالبہ کرتے ہوئے سماج وادی پارٹی 13 جون کو مہا دھرنا منعقد کرے گی ۔ انہوں نے بتایا کہ ٹاڈا مقدمہ میں جیل کی صعوبتیں برداشت کررہے تھے ۔ اس وقت انہوں نے فیصلہ کیا تھا کہ رہائی کی صورت میں وہ ریاست کی سرحدوں کو توڑتے ہوئے مسلمانوں کے حقوق کے تحفظ اور انہیں انصاف کے لیے جدوجہد کریں گے ۔ جناب ابوعاصم اعظمی نے ریاست اترپردیش میں خاطی پولیس عہدیداروں کے خلاف کارروائیوں کی مثالیں دیتے ہوئے کہا کہ اکھلیش یادو کی حکومت میں مسلم نوجوانوں کو ہراساں کرنے کے معمولی واقعہ پر بھی پولیس عہدیدار معطل کئے جارہے ہیں اور گزشتہ 3 برسوں کے دوران ایک بھی مسلم نوجوان کو بیجا مقدمات میں ماخوذ نہیں کیا گیا ۔ ممبئی کے علاقہ گونڈی میں منعقدہ اس جلسہ عام میں ہزاروں کی تعداد میں عوام نے شرکت کرتے ہوئے گاؤ کشی پر امتناع کے قانون کے نفاذ ، مسلم نوجوانوں کی ہلاکت اور قومی سطح پر بدگمانی پھیلانے کی کوششوں کے خلاف منعقدہ اس جلسہ عام سے جناب امجد اللہ خاں خالد سابق کارپوریٹر مجلس بچاؤ تحریک ، جناب رئیس شیخ کارپوریٹر ، جناب عبدالقادر چودھری ، جناب شبیر ، مسٹر رام کرشن تیواری کے علاوہ دیگر نے مخاطب کیا ۔ اس جلسہ عام سے آلیر انکاونٹر میں شہید ہونے والے سید امجد علی کے بھائی سید امتیاز علی نے واقعہ کی مکمل رو داد سناتے ہوئے عوام سے اپیل کی کہ وہ انصاف کے حصول کے لیے کی جانے والی اس کوشش میں مظلوم خاندانوں کا ساتھ دیں تاکہ ملک میں انصاف قائم ہوسکے ۔ جناب ابوعاصم اعظمی نے بتایا کہ ملک بھر میں آر ایس ایس اور اس کی محاذی تنظیمیں مسلمانوں کو نشانہ بنانے کی کوشش کررہی ہیں اس کے خلاف سیکولر اور دلت طبقات کا اتحاد وقت کی اہم ضرورت ہے ۔ جناب امجد اللہ خاں خالد نے اس احتجاجی جلسہ عام سے خطاب کرتے ہوئے مسلم سیاسی قیادت کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ تلنگانہ میں برسر اقتدار جماعت کی حلیف مسلم سیاسی جماعت ہندوستانی مسلمانوں کو گمراہ کررہی ہے ۔ انہوں نے آلیر فرضی انکاونٹر واقعہ میں ملوث پولیس عہدیداروں کو فوری معطل کرنے کا مطالبہ کرتے ہوئے جناب ابوعاصم اعظمی سے اظہار تشکر کیا اور کہا کہ جناب ابوعاصم اعظمی نے حیدرآباد کے مظلوم خاندانوں سے اظہار ہمدردی اور ان کی مدد کے ذریعہ انہیں حوصلہ دیا ہے ۔ جناب امجد اللہ خاں خالد نے بتایا کہ ریاست تلنگانہ کے چیف منسٹر فی الحال یہ تصور کررہے ہیں کہ انہوں نے مسلم حلیف سیاسی جماعت کو اپنا ہمنوا بنالیا ہے تو کوئی آواز نہیں اٹھائے گا لیکن 13 جون سے قبل مطالبات کی عدم تکمیل کی صورت میں انہیں مسلم عوامی تحریک کا احساس ہوجائے گا ۔ جناب رئیس شیخ نے بتایا کہ جو لوگ یہ کہہ رہے ہیں کہ ابوعاصم اعظمی حیدرآباد کیوں جارہے ہیں انہیں یہ نہیں بھولناچاہئے کہ ابوعاصم اعظمی نے اترپردیش میں بھی مسلم طبقہ پر مظالم کی اطلاع پر اپنی پارٹی کی حکومت رکھتے ہوئے وہاں کا رخ کیا تھا ۔ علاوہ ازیں ابوعاصم اعظمی نے ملک میں جہاں کہیں مسلمانوں پر مظالم کی اطلاع ملی وہاں کا رخ کیا ۔ خواہ وہ آسام ہو یا حیدرآباد یا پھر فیض آباد یا مظفر نگر ہر جگہ ابوعاصم اعظمی نے فرد امت کے طور پر پہنچ کر مظلوموں کی آواز اٹھائی ہے ۔ مسٹر تیواری نے اس موقعہ پر اپنے خطاب کے دوران آلیر انکاونٹر معاملہ کو مسلمانوں کا مسئلہ نہ بنانے کی اپیل کرتے ہوئے کہا کہ قتل خواہ کسی بے قصور کا ہو اس کے خلاف آواز اٹھانی چاہئے ۔ اس موقعہ پر موجود دیگر مقررین نے ملک کے دستور اور جمہوری اقدار کے تحفظ کو اولین ترجیح دینے کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ اس ملک کے دستور نے مسلمانوں کے جان و مال کی حفاظت کی ضمانت دی ہے اور موجودہ حالات میں ہندوستانی مسلمان عدم تحفظ کا شکار محسوس کررہے ہیں اس اعتبار سے دستور غیر محفوظ نظر آرہا ہے ۔ اسی لیے دستور کی حفاظت کی طمانیت حاصل کرنا ناگزیر ہے ۔ ڈاکٹر قاسم امام نے بھی اس موقعہ پر مخاطب کیا ۔ مکہ مسجد دھماکہ کے مقدمہ میں ماخوذ کئے گئے بے گناہ نوجوان جناب معتصم باللہ کے علاوہ دیگر موجود تھے ۔۔