مسلمانوں کیلئے کوٹہ ترقی کا راستہ نہیں

نئی دہلی ۔ 7 جنوری (سیاست ڈاٹ کام) یہ رائے پیش کرتے ہوئے کہ اقلیتوں کیلئے کوٹہ آگے بڑھنے کا راستہ نہیں ہے کیونکہ دستور مذہب کی اساس پر ریزرویشن کی اجازت نہیں دیتا ہے، وزیراقلیتی امور نجمہ ہپت اللہ نے آج کہا کہ ان کی وزارت کا رویہ نوجوانوں کو ہنرمند بنانے پر مرکوز ہے۔ نجمہ نے ایک گفتگو کے دوران کہا کہ اثباتی عمل ہونا چاہئے… سب سے پہلے میں اس تعلق سے نہایت واضح موقف پیش کردینا چاہوں گی۔ اس ملک کا اپنا دستور ہے اور اس کی مطابقت میں ہم تمام کو کام کرنا پڑے گا۔ دستور ہند کے مطابق مذہب کی بنیاد پر تحفظات نہیں ہوسکتے کیونکہ یہ عدالتی کشاکش میں پھنس جائیں گے۔ کئی ریاستوں نے کوششیں کرلی لیکن کام نہیں بنا۔ مرکزی وزیر نے کہا کہ مارچ تک کے تخمینہ کے مطابق تقریباً 10 ہزار لوگوں کو تربیت یافتہ بنادیا جائے گا جو اپنے طور پر نوکری تلاش کرسکتے ہیں یا اپنا انٹر پرائز شروع کرسکتے ہیں۔ نجمہ نے کہا کہ حکومت میں کتنی نوکریاں دستیاب ہیں؟بہت تھوڑی ۔ اور حکومت کتنا ریزرویشن فراہم کرسکتی ہے۔ اس کی کوئی حد رہے گی۔ اگر کوئی مخصوص برادری کو 5 فیصد ریزرویشن بھی دیا جاتا ہے تو دیگر کی صورتحال کیا ہوجائے گی جو اس سے استفادہ کے قابل نہیں ہیں۔