آبادی کے تناسب سے تحفظات فراہم کرنے مکتا کی صدر پروفیسر کے وملا کا مطالبہ
حیدرآباد۔15مارچ(سیاست نیوز) پسماندگی کاشکار مسلم سماج کو نئی ریاست تلنگانہ میں علیحدہ سب پلان کی اجرائی کو ضروری قراردیتے ہوئے تلنگانہ حامی خواتین کی اتحادی تنظیم مکتا کی صدر پروفیسر کے ویملا نے کہاکہ متحدہ ریاست آندھرا پردیش میں مسلمانوں کے بشمول دلت‘ پچھڑے اور قبائیلی طبقات کے ساتھ ہوئی ناانصافیوں کو ختم کرنے اور سنہری تلنگانہ ریاست کی تشکیل کے خواب کو پورا کرنے کے لئے حق تلفی اور ناانصافیوں کا شکار مسلمانوں کے بشمول دلت‘ پچھڑے اور قبائیلیوںکو آبادی کے تناسب سے تحفظات لازمی ہیں۔ پروفیسر ویملا کہاکہ مسلمانوں کاتیس سے چالیس فیصد تناسب سرکاری ملازمتوں میںتھا مگر متحدہ ریاست آندھرا پردیش قائم ہونے کے بعدآندھرائی حکمرانوں نے انگریزی سے عدم واقفیت کو بنیاد بناکرچالیس ہزار مسلمانوں کو سرکاری ملازمتوں سے محروم کردیا۔
انہوں صرفخاص اور وقف اراضیات پر آندھرائی قائدین اورسرمائے داروں کے قبضوں کی مذمت کرتے ہوئے کہاکہ مختلف قوانین کے ذریعہ مسلمانوں کی اراضیات بالخصوص صرفخاص اور وقف اراضیات کو بھی آندھرائی قائدین نے اپنے قبضوں میںلیکر ذاتی مفادات کی تکمیل کی۔ پروفیسر ویملا نے حیدرآباد کی تہذیب وتمدن پر بھی آندھرائی قائدین کی حملوںکا اس موقع پر تذکر ہ کرتے ہوئے کہاکہ فرقہ وارانہ ہم اہنگی اور ہندومسلم بھائی چارے کی مثال حیدرآبادی تہذیب میں رخنہ پیدا کرنے کی آندھرائی حکمرانوں اور سرمائے داروں نے کوششیں کی۔ پروفیسر ویملا نے کہاکہ اب جبکہ تلنگانہ ریاست کی تشکیل عمل میںآرہی ہے اور تلنگانہ ملک کی 29ویں ریاست بن رہا ہے تو ان حالات میں مجوزہ ریاست کی برسراقتدار حکومت پر یہ ذمہ دار ی عائد ہوجائے گی کہ وہ سب سے پہلے متحدہ ریاست آندھرا پردیش میںاستحصال ‘ حق تلفی اور ناانصافیوں کا شکار طبقات کے ساتھ انصاف کرے ۔ پروفیسر ویملا نے تلنگانہ میں کسی بھی قسم کی ناانصافیوں کے خلاف اپنی جدوجہد کو جاری رکھنے کا اس موقع پر اعلان کیا۔انہوں نے نئی ریاست تلنگانہ میں آبادی کے تناسب سے مسلمانوں کے بشمول ایس سی‘ ایس ٹی‘ بی سی طبقات کو زندگی کے تمام شعبوں میں تحفظات فراہم کرنے کا مطالبہ کیا اور کہاکہ خواتین کو بھی آبادی کے تناسب سے تحفظات اور مرعات سنہری تلنگانہ ریاست کی تشکیل میں مددگارثابت ہوگا۔