دو ہفتوں کا عرصہ بیت گیا، دوسرے رکن کی نامزدگی ندارد، دفتر کمیشن کا بھی عدم الاٹمنٹ
حیدرآباد۔/19مارچ، ( سیاست نیوز) مسلمانوں کو 12فیصد تحفظات کی فراہمی کیلئے سماجی، معاشی اور تعلیمی موقف کا جائزہ لینے قائم کردہ کمیشن آف انکوائری کو دفتر کی تلاش ہے۔ محکمہ اقلیتی بہبود اس سلسلہ میں مختلف سرکاری اور غیر سرکاری عمارتوں میں مناسب جگہ کی تلاش میں سرگرم ہے تاکہ وہاں کمیشن کی کارکردگی کا آغاز کیا جاسکے۔ دلچسپ بات تو یہ ہے کہ حکومت نے مسلمانوں کے علاوہ ایس ٹی طبقہ کو 12فیصد تحفظات کے سلسلہ میں علحدہ کمیشن آف انکوائری تشکیل دیا لیکن اس کے صدر نشین کو دفتر فراہم کردیا گیا اور انہوں نے جائزہ بھی حاصل کرلیا جبکہ مسلمانوں کیلئے قائم کردہ کمیشن آف انکوائری کیلئے سکریٹریٹ، اسمبلی کے اطراف و اکناف کسی موزوں عمارت کی تلاش کا کام ابھی جاری ہے۔ بتایا جاتا ہے کہ کمیشن آف انکوائری کے صدرنشین جی سدھیر آئی اے ایس ( ریٹائرڈ ) نے آج اسپیشل سکریٹری اقلیتی بہبود سید عمر جلیل سے ملاقات کی اور دفتر کی نشاندہی کے مسئلہ پر تبادلہ خیال کیا۔ واضح رہے کہ 3مارچ کو حکومت نے کمیشن آف انکوائری کے احکامات جاری کئے تھے اور جی سدھیر کے علاوہ کمیشن کے رکن کی حیثیت سے ریٹائرڈ سینئر لکچرر ایم اے باری کو شامل کیا گیا جبکہ دوسرے ممبر کی نامزدگی کے بغیر ہی جی او جاری کردیا گیا۔ کمیشن آف انکوائری کی تشکیل کے دو ہفتے گذرنے کے باوجود ابھی تک دوسرے رکن کو نامزد نہیں کیا گیا۔ اس طرح کمیشن آف انکوائری نامکمل ہی کہا جائے گا۔ صدر نشین اور ایک ممبر کے ساتھ کمیشن آف انکوائری کارکردگی کا آغاز کرنا چاہتا ہے لیکن اس کے لئے دفتر کی جگہ دستیاب نہیں۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ حکومت کو چاہیئے کہ وہ کمیشن کے دوسرے رکن کو فوری نامزد کرے تاکہ کمیشن مکمل ہوجائے اور وہ دی گئی ذمہ داریوں پر کام کا آغاز کردے۔ تحفظات کی فراہمی میں حکومت کی سنجیدگی کا اندازہ اس بات سے لگایا جاسکتا ہے کہ نہ ہی کمیشن کا دفتر ابھی تک قائم کیا گیا اور نہ ہی دوسرے رکن کا تقرر عمل میں آیا جبکہ جی او کی اجرائی 3مارچ کو عمل میں آئی تھی۔ اقلیتی بہبود کے عہدیدار شہر کے مرکزی مقامات پر واقع بعض سرکاری عمارتوں اور خانگی عمارتوں میں بھی جگہ تلاش کررہے ہیں۔ سرکاری عمارتوں میں کمیشن کیلئے جگہ دستیاب نہیں جبکہ خانگی عمارتوں کے مالکین سرکاری کرایہ کو قبول کرنے تیار نہیں اور وہ زائد رقم کی مانگ کررہے ہیں۔ بتایا جاتا ہے کہ گن فاؤنڈری میں واقع جامعہ نظامیہ کے کامپلکس میں کمیشن آف انکوائری کے دفتر کے قیام کی کوشش کی جارہی ہے چونکہ حکومت نے جامعہ نظامیہ میں آڈیٹوریم کی تعمیر کیلئے9کروڑ 60 لاکھ روپئے منظور کئے ہیں لہذا حکومت کو امید ہے کہ جامعہ نظامیہ کرایہ میں کمی سے اتفاق کرلے گا۔ کمیشن آف انکوائری کو رپورٹ کی پیشکشی کیلئے 6ماہ کا وقت دیا گیا ہے تاہم دو ہفتے گذرنے کے باوجود ابھی تک نہ ہی کمیشن کو آفس ہے اور نہ دوسرے رکن کو نامزد کیا گیا۔ ریٹائرڈ آئی اے ایس عہدیدار جی سدھیر چاہتے ہیں کہ جلد از جلد ذمہ داری سنبھالتے ہوئے کام کا آغاز کیا جائے اور اقلیتوں کے سماجی، تعلیمی اور معاشی سروے کا آغاز ہو۔ ہونا تو یہ چاہیئے تھا کہ حکومت سکریٹریٹ میں ہی کمیشن آف انکوائری کے لئے جگہ فراہم کرتی تاکہ کمیشن آف انکوائری کو عہدیداروں سے ربط قائم کرنے میں سہولت ہوسکے۔