کولکتہ ۔ 20 ۔ دسمبر : ( سیاست ڈاٹ کام ) : راشٹریہ سیوم سیوک سنگھ ( آر ایس ایس ) سربراہ موہن بھاگوت نے آج کہا کہ مسلمانوں کو ہندو بنانے کا عمل جاری رہے گا ۔ دیگر طبقات کے افراد کو ہندوازم میں واپس لانے کی ہماری مہم برقرار رہے گی کوئی طاقت اسے روک نہیں سکتی ۔ انہوں نے سیاسی حریفوں کو چیلنج کیا کہ وہ آر ایس ایس اور دیگر ہندو تنظیموں کی گھر واپسی مہم کو روک کر رکھائیں ۔ یہ پروگرام بہرحال نہیں رکے گا جو لوگ ہمارے مذہب سے بھٹک کر زندگی گذار رہے تھے اگر وہ لوگ گھر واپس ہونا چاہتے ہیں تو ہم انہیں گھر واپس لائیں گے ۔مرکز کی جانب سے تجویز کردہ انسداد تبدیلیٔ مذہب بل کیلئے اپنی تائید و حمایت ظاہر کرتے ہوئے آر ایس ایس سربراہ موہن بھاگوت نے آج اپوزیشن پارٹیوں سے اپیل کی کہ اگر وہ تبدیلیٔ مذہب نہیں چاہتے ہیں تو پارلیمنٹ میں قانون لانے میں تعاون کریں۔ انھوں نے یہ بھی کہا کہ اگر کسی کو ہندومت اختیار کرنا پسند نہیں تو اسی طرح ہندوؤں کا مذہب بھی تبدیل نہیں کرنا چاہئے۔ ’’ہم طاقتور ہندو سماج کی تشکیل کیلئے کوشاں ہیں۔ وہ جو بھٹک گئے، وہ اپنے طور پر نہیں گئے۔ انھیں جھانسا دیا گیا اور جبری طور پر دور کئے گئے۔ جب چور کو پکڑا جارہا ہے اور میری چیز برآمد کی جارہی ہے، جب میں میری چیز کو واپس لے رہا ہوں تو اس میں اچنبھا کیوں ہے؟‘‘ بھاگوت نے یہاں منعقدہ ہندو سمیلن میں ان ریمارکس کے ساتھ تعجب کا اظہار کیا۔
انھوں نے کہا: ’’اگر آپ کو یہ پسند نہیں تو اس کے خلاف قانون لائیے۔ آپ اسے لانا نہیں چاہتے ہیں۔ اگر آپ ہندو میں تبدیل ہونا نہیں چاہتے تو آپ کو چاہئے کہ ہندوؤں کو بھی نہ بدلیں۔ ہم ٹھوس موقف رکھتے ہیں۔ ‘‘ انھوں نے یہ بھی کہا کہ ’’گھبرانے کی کوئی ضرورت نہیں۔ ہم ہمارے اپنے ملک میں ہیں۔ ہم کوئی درانداز نہیں ہیں۔ یہ ہمارا اپنا ملک، ہمارا ہندو ’راشٹرا‘ (قوم) ہے۔ کوئی بھی ہندو اپنی سرزمین نہیں چھوڑے گا۔ جو کچھ ہم ماضی میں کھوچکے، ہم اسے واپس لانے کی کوشش کریں گے۔ کسی کو بھی ہندوؤں کے عروج سے خائف نہیں ہونا چاہئے۔ وہ جو ہندوؤں کی ترقی کے خلاف آواز اٹھا رہے ہیں، دراصل خودغرض ہیں اور مفادات حاصلہ رکھتے ہیں‘‘۔ بھاگوت نے کہا کہ ہندو سوسائٹی کسی کو بھی کچلنے میں یقین نہیں رکھتا ہے۔ انھوں نے ریمارک کیا: ’’ہندو عوام تو برداشت کرتے آئے ہیں چاہے یہ بنگلہ دیش کی جانب سے جرائم ہوں یا پاکستان کی طرف سے۔ ہمارا بھگوان کہتا ہے کہ 100 جرائم کے بعد ہندوؤں کے خلاف جرائم کو برداشت نہ کرو‘‘۔
یہ بیان کرتے ہوئے کہ پاکستان بھی تقسیم سے قبل ہندوستان کاحصہ تھا، انھوں نے کہا کہ وہاں ہندوؤں کی کوئی طاقتور موجودگی نہیں، یہی وجہ ہے کہ پاکستان امن سے نہیں رہ سکتا ہے‘‘۔ بھاگوت نے دعویٰ کیا کہ ’’جب تک ہندوستان میں ہندو ہیں، یہ ملک قائم ہے۔ اگر ہندو نہ ہوں تو یہاں مقیم ہر کوئی پریشانی میں مبتلا ہوجائے گا‘‘۔ انھوں نے یہ بھی کہا کہ ہندو اتنے طاقتور ہیں کہ اپنی املاک اور عزت کو بچا سکتے ہیں، نیز یہ کہ ساری دنیا کی بہتری کیلئے طاقتور ہندو سماج ضروری ہے۔ وشوا ہندو پریشد کے بین الاقوامی صدر پراوین توگاڑیہ نے بھی انسداد تبدیلیٔ مذہب پر قانون لانے کے بارے میں بھاگوت کی رائے سے اتفاق کیا۔ انھوں نے کہا، ’’میرے برادر ملائم (سنگھ یادو) … اگر تبدیلیٔ مذہب جرم ہے، اگر چوری کرنا جرم ہے … اگر چوری کے خلاف قانون موجود ہے تو پھر تبدیلیٔ مذہب کے خلاف کوئی قانون کیونکر نہیں ہونا چاہئے… پھر آپ کیوں پارلیمنٹ میں قانون انسداد تبدیلیٔ مذہب کی مخالفت کر رہے ہو۔ یہ بل اگر آپ لائیں ، تب بھی ہم تائید کریں گے‘‘۔