مسلمانوں کو ہندو بنانے سے ہمیں کوئی روک نہیں سکتا

علیگڑھ ۔ 13 ۔ دسمبر : ( سیاست ڈاٹ کام ) : اترپردیش میں ضلع نظم و نسق کی وارننگ کے باوجود دھرم جاگرن منچ نے کہا ہے کہ مسلمانوں کو ہندو بنانے اور عیسائیوں کو مذہب تبدیل کرانے سے ہم کو کوئی روک نہیں سکتا ۔ ہم اپنے پروگرام کو طئے شدہ تاریخ 25 دسمبر کو منعقد کریں گے اور اس میں سینکڑوں مسلمانوں اور عیسائیوں کو ہندو بنائیں گے ۔ دھرم جاگرن سمیتی کے ایک لیڈر نے کہا کہ یہ تبدیلی مذہب کا پروگرام نہیں ہے بلکہ یہ گھر واپسی کی تقریب ہے ۔ ماضی میں جو لوگ ہندو صف سے نکل کر چلے گئے تھے انہیں اب واپس لایا جارہا ہے ۔ ہندو مذہب چھوڑ کر دوسرا مذہب اختیار کرنے کے بعد انہوں نے جن تلخ تجربات کا سامنا کیا ہے ۔ اس سے بیزار ہو کر وہ واپس ہندو مذہب قبول کرنا چاہتے ہیں ۔ دھرم جاگرن سمیتی کے سکریٹری ودیا رام پانڈے نے کہا کہ اگر ضلع نظم و نسق نے ہمیں روکنے کی کوشش کی تو ہم اس کے ساتھ قانونی لڑائی لڑنے تیار ہیں ۔ علیگڑھ ضلع نظم و نسق نے تبدیلی مذہب کا پروگرام منعقد کرنے کی اجازت دینے کے لیے سمیتی کی جانب سے کوئی درخواست موصول ہونے کی تردید کی ہے ۔ اس دوران بی جے پی اس مسئلہ پر ضلع حکام اور دیگر زعفرانی تنظیموں کے درمیان جاری کشیدگی پر تذبذب کا شکار ہوگئی ہے ۔

بی جے پی نے ضلع صدر دیوراج سنگھ نے اخباری نمائندوں سے کہا کہ ہم اس تقریب کو منعقد نہیں کررہے ہیں بلکہ اگر بجرنگ دل کے بشمول دیگر زعفرانی تنظیموں نے اس سلسلہ میں ہماری مدد طلب کی تھی ہم بلاشبہ اپنے سے جو ہوسکتا ہے ان کی مدد کریں گے ۔ دوسری جانب مسلمانوں کی تنظیموں اور قائدین نے علیگڑھ میں ہندوتوا طاقتوں کی ہٹ دھرمی پر تشویش کا اظہار کیا ہے اور کہاکہ اس سے فرقہ وارانہ کشیدگی پیدا ہوگی ۔ بعض عیسائی تنظیموں نے کہا کہ کرسمس کے موقع پر تبدیلی مذہب کا پروگرام منعقد کرنا ایک گھناونی حرکت ہے ۔ علیگڑھ مسلم یونیورسٹی اسٹوڈنٹس یونین نے مرکزی وزیر داخلہ راجناتھ سنگھ کو مکتوب لکھ کر اس جانب توجہ مبذول کروائی ہے کہ بعض ہندو تنظیموں کی جانب سے جبرا مذہب تبدیل کرنے کی کوشش کی جارہی ہے ۔ اس سے اترپردیش میں فرقہ وارانہ کشیدگی پیدا ہوگی اور سارے ملک کے لیے ایک خطرناک عمل ہے ۔ اسٹوڈنٹس یونین نے لکھا ہے کہ یہ معاملہ ہندوازم کا نہیں بلکہ ہندوازم نے ہرگز مذاہب کا استحصال کرنے کا درس نہیں دیا ہے ۔ یہ سراسر انتہا پسند ہندو تنظیموں کی زیادتی اور کارستانی ہے جو اس طرح کی سرگرمیوں میں ملوث ہو کر ہندوستان کی تہذیب اور کثرت میں وحدت کے جذبہ کوٹھیس پہونچانا چاہتی ہیں سیاسی مقاصد کے لیے سماج میں پھوٹ ڈال رہی ہیں ۔۔