یروشلم۔ 15 اکٹوبر ۔ ( سیاست ڈاٹ کام ) اسرائیلی سکیورٹی فورس نے مسلمان نمازیوں کو مسجد اقصیٰ میں داخل ہونے سے روک کر درجنوں یہودی نوآبادکاروں کو مسجد میں جانے کی اجازت دے دی۔ فلسطینی حکام اور عینی شاہدین کے مطابق مسجد اقصیٰ ٰ کے مسلمان سکیورٹی گارڈ نے بتایا، ’’ یہودیوں کو مسجد کے مغربی دروازے سے بھاری نفری کی حفاظت میں مسجد کے اندر داخل کیا گیا‘‘۔ عینی شاہدین کے مطابق یہودیوں کی مسجد میں موجودگی کے دوران مسلمان نمازیوں کو مسجد میں داخلے سے روکے رکھا گیا جس کی وجہ سے مسلمان نماز فجر مسجد میں ادا نہ کر سکے۔ اردن کے زیر انتظام چلنے والی مسلمانوں کی ایک فلاحی تنظیم کے سربراہ شیخ عظام الخطیب نے بتایا کہ اسرائیلی حکام نے پچاس سال سے کم عمر مسلمانوں اور مسلم عورتوں کے مسجد اقصیٰ میں داخلے پر پابندی لگا رکھی ہے۔ انہوں نے کہا،
’’ہم ان اسرائیلی اقداامات کو مسترد کرتے ہیں، ان اسرائیلی اقدامات سے یروشلم میں آگ بھڑک سکتی ہے‘‘۔یہ صورتحال ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب اسرائیلی وزیر اعظم بنیامین نیتن یاہو نے بان کی مون سے گفتگو کے دوران کہا ہے کہ اسرائیل مقدس مقامات کے حوالے سے عشروں سے جاری دہرے حقوق کے ماحول کو برقرا رکھنا چاہتا ہے۔ نیتن یاہو نے حالیہ کشیدگی کے بارے میں الزام عاید کیا کہ یہ ان شورش پسندوں کی وجہ سے ہے جو اشتعال انگیزیاں کرتے ہیں اور یہ اشتعال بلاجواز ہے۔ واضح رہے کہ بان کی مون غزہ جنگ کے متاثرین کیلئے منعقدہ ڈونرز کانفرنس میں شرکت کی غرض سے خطے کے دورے پر آئے۔ اسی دوران مغربی کنارے کے رملہ میں بان کی مون نے فلسطینی وزیر اعظم رامی حمداللہ کے ساتھ مشترکہ پریس کانفرنس سے بھی خطاب کیا ہے۔اسرائیلی سکیورٹی فورسز پچھلے کئی دنوں سے مسجد اقصیٰ میں یہودیوں کو داخل کرانے کیلئے نمازیوں اور مظاہرین پر چڑھائی کئے ہوئے ہے۔