مسلمانوں کو تحفظات کیلئے تشکیل کردہ کمیشن کے کام کا عدم آغاز

حیدرآباد ۔15 ۔ اپریل (سیاست نیوز) حکومت نے مسلمانوں کو 12 فیصد تحفظات کی فراہمی کے سلسلہ میں کمیشن آف انکوائری تشکیل دیا تھا لیکن کمیشن گزشتہ ایک ماہ سے دفتر کی تلاش میں ہے اور ابھی تک حکومت اور محکمہ اقلیتی بہبود کی جانب سے کمیشن کیلئے دفتر کی جگہ فراہم نہیں کی گئی۔ بتایا جاتا ہے کہ مختلف سرکاری اور خانگی عمارتوں میں کمیشن کیلئے دفتر کی تلاش کا کام آخری مرحلہ میں ہے کیونکہ پولیس کنٹرول روم کے روبرو واقع فوڈ کارپوریشن آف انڈیا کی عمارت میں جگہ دستیاب ہوچکی ہے۔ بتایا جاتا ہے کہ کمیشن کے صدرنشین جی سدھیر ریٹائرڈ آئی اے ایس اور اقلیتی بہبود کے عہدیداروں نے عمارت کا دورہ کرتے ہوئے کمیشن کیلئے اسی عمارت میں دفتر کے قیام کو منظوری دی ہے۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ کمیشن کے قیام کو ایک ماہ گزرنے کے باوجود ابھی تک اس نے اپنے کام کا آغاز نہیں کیا کیونکہ اس کیلئے دفتر ہی موجود نہیں تھا جبکہ ایس ٹی طبقہ کے سلسلہ میں قائم کردہ کمیشن نے نہ صرف اپنے کام کا آغاز کردیا بلکہ کمیشن کے ارکان اضلاع کے دورے کر رہے ہیں۔ دفتر کے قیام کے باوجود کمیشن آف انکوائری نامکمل ہی رہے گا

کیونکہ حکومت نے ابھی تک کمیشن کے دوسرے رکن کا تقرر نہیں کیا ہے۔ کس طرح یہ نامکمل کمیشن تلنگانہ میں اقلیتوں کی تعلیمی ، سماجی اور معاشی پسماندگی کا جائزہ لے پائے گا۔ 3 مارچ کو جی او ایم ایس 5 کے ذریعہ حکومت نے ریٹائرڈ آئی اے ایس عہدیدار جی سدھیر کی قیادت میں کمیشن آف انکوائری قائم کیا گیا تھا ۔ کمیشن کے ایک رکن کے طور پر ریٹائرڈ لکچرر ایم اے باری کو نامزد کیا گیا جبکہ دوسرے رکن کا تقرر ابھی باقی ہے۔ حکومت نے کمیشن آف انکوائری کو سروے کے کام کی تکمیل اور رپورٹ کی پیشکشی کیلئے 6 ماہ کی مہلت دی ہے۔ اب جبکہ کمیشن میں ایک رکن کا تقرر ابھی باقی ہے اور کمیشن نے باقاعدہ کارکردگی کا آغاز نہیں کیا، پھر کس طرح 6 ماہ میں رپورٹ کی توقع کی جاسکتی ہے۔ مسلمانوں کو 12 فیصد تحفظات فراہم کرنے کا اعلان کرنے والی تلنگانہ حکومت کیلئے یہ صورتحال لمحہ فکر ہے۔