کمیشن کا قیام محض دلجوئی ، کوئی قانونی دستوری موقفہ نہیں ، ماہرین کے تاثرات
حیدرآباد۔/6مارچ، ( سیاست نیوز) تلنگانہ حکومت نے مسلمانوں کو تعلیم اور روزگار میں تحفظات فراہم کرنے کے سلسلہ میں جو انکوائری کمیشن قائم کیا ہے وہ تحفظات کی فراہمی میں مددگار ثابت نہیں ہوسکتا۔ حکومت نے مسلمانوں کو تعلیم اور روزگار میں 12فیصد تحفظات کی فراہمی کا وعدہ کیا تھا اور 9ماہ گذرنے کے بعد اس سلسلہ میں پسماندہ طبقات کمیشن کے قیام کے بجائے ایک ریٹائرڈ آئی اے ایس عہدیدار کی قیادت میں کمیشن آف انکوائری قائم کیا گیا۔ کسی بھی طبقہ کو تحفظات کی فراہمی کیلئے بیاک ورڈ کلاس کمیشن کی سفارشات ضروری ہیں۔ حکومت کی تشکیل کے بعد چیف منسٹر نے اعلان کیا تھا کہ بہت جلد ریٹائرڈ یا برسر خدمت جج کی قیادت میں کمیشن قائم کیا جائے گا لیکن اچانک انکوائری کمیشن کی تشکیل سے حکومت کی سنجیدگی پر سوال اٹھنے لگے ہیں۔ مسلمانوں کو تحفظات کی فراہمی میں حکومت کس حد تک سنجیدہ ہے اس کا اندازہ کمیشن آف انکوائری کی تشکیل سے ہوتا ہے۔ تین رکنی کمیشن میں ایک رکن کا تقرر ابھی باقی ہے۔ انکوائری کمیشن کو تلنگانہ میں مسلمانوں کی تعلیمی، معاشی اور سماجی موقف کا جائزہ لینے کی ذمہ داری دی گئی۔ ساتھ ہی ساتھ مسلمانوں کو تحفظات کی فراہمی کے بارے میں بھی رائے طلب کی گئی ہے۔ یہ کمیشن 6ماہ میں اپنی رپورٹ پیش کردے گا۔ اسی دوران تحفظات کے دستوری اور قانونی موقف کے ماہرین کا کہنا ہے کہ کمیشن آف انکوائری کا قیام محض دلجوئی کی کوشش ہے اور کمیشن کی سفارشات کو کوئی قانونی اور دستوری موقف حاصل نہیں ہوگا۔ منڈل کمیشن کے مقدمہ میں سپریم کورٹ نے واضح طور پر کہا تھا کہ صرف بیاک ورڈ کلاس کمیشن ہی کسی طبقہ کو پسماندہ قرار دیتے ہوئے تحفظات کی سفارش کرسکتا ہے۔ بیاک ورڈ کلاسیس کمیشن باقاعدہ ایک دستوری ادارہ ہے۔ تلنگانہ حکومت نے بیاک ورڈ کلاسیس کمیشن کے قیام کے بجائے کمیشن آف انکوائری تشکیل دیا۔ایک سینئر ریٹائرڈ آئی اے ایس عہدیدار جو راج شیکھر ریڈی دور حکومت میں تحفظات کی فراہمی میں اہم رول ادا کرچکے ہیں، ان کا کہنا ہے کہ تلنگانہ حکومت کو انکوائری کمیشن کی رپورٹ کے بعد علحدہ بیاک ورڈ کلاسیس کمیشن قائم کرنا پڑے گا چونکہ موجودہ کمیشن کی دونوں ریاستوں میں تقسیم عمل میں نہیں آئی ہے لہذا پہلے کمیشن کو تقسیم کرنا ہوگا اس کے بعد صدر نشین کا انتخاب کیا جانا چاہیئے جو ریٹائرڈ یا برسر خدمت ہائی کورٹ جج کے رتبہ کے حامل ہوں۔ انہوں نے کہا کہ کسی بھی طبقہ کو پسماندہ طبقات کی فہرست میں شامل کرنا یا فہرست سے خارج کرنا بیاک ورڈ کلاسیس کمیشن کی ذمہ داری ہے۔ موجودہ انکوائری کمیشن کی رپورٹ کی قانونی حیثیت کے بارے میں سینئر عہدیدار نے کہا کہ اس کی سفارشات کو قبول کرنے کیلئے حکومت پابند نہیں۔ اگر اس کی رپورٹ بیاک ورڈ کلاسیس کمیشن کو پیش کی جاتی ہے تب بھی کمیشن اپنے طور پر مسلمانوں کے موقف کے بارے میں سروے کرے گا۔ راج شیکھر ریڈی دور حکومت میں پی ایس کرشنن کمیٹی کی رپورٹ جسٹس وی سبرامنیم کی زیر قیادت بی سی کمیشن کے حوالہ کی گئی تھی۔ کمیشن نے تمام اضلاع کا سروے کرتے ہوئے پہلی مرتبہ 5فیصد تحفظات کی فراہمی کی سفارش کی تھی جسے عدالت نے کلعدم کردیا۔ دوسری مرتبہ پی ایس کرشنن کمیٹی نے اپنی رپورٹ میں مسلمانوں کی پسماندگی کی بنیاد پر علحدہ زمرے کے قیام کی سفارش کی جس کی بنیاد پر مسلمانوں کو بی سی ای زمرے میں شامل کرتے ہوئے 4فیصد تحفظات کی سفارش کی گئی۔ تحفظات کا مسئلہ ہائی کورٹ سے نکل کر اب سپریم کورٹ میں زیر التواء ہے۔ 5فیصد اور 4فیصد تحفظات کے دونوں معاملے ابھی بھی سپریم کورٹ میں زیر التواء ہیں۔ ماہرین کی رائے ہے کہ حکومت کو چاہیئے تھا کہ وہ موجودہ انکوائری کمیشن کو ہی بیاک ورڈ کلاسیس کمیشن میں تبدیل کردیتی۔ ماہرین کے مطابق کسی بھی ریاست کو 50فیصد سے زائد تحفظات کی فراہمی کا اختیار حاصل ہے تاہم اسے اس کا جواز پیش کرنا ہوگا۔ ٹاملناڈو میں 69فیصد تحفظات ہیں اور گزشتہ 40برسوں سے یہ معاملہ سپریم کورٹ میں زیر دوران ہے لیکن تحفظات پر عمل آوری جاری ہے۔ ماہرین کے مطابق موجودہ انکوائری کمیشن کی سفارشات کو حکومت اسمبلی میں پیش کرنے کی پابند نہیں جبکہ اگر اقلیتی کمیشن کے ذریعہ یہ کام انجام دیا جاتا تو اس کی رپورٹ اور سفارشات کو اسمبلی میں پیش کرتے ہوئے منظوری حاصل کی جاسکتی تھی۔ دراصل تلنگانہ حکومت نے انکوائری کمیشن کے ذریعہ تحفظات کے معاملہ کو آئندہ چھ ماہ تک کیلئے ٹال دیا ہے۔ مقررہ وقت پر سفارشات کی پیشکشی کی صورت میں حکومت کو نئے بی سی کمیشن کی تشکیل کے اقدامات کرنے ہوں گے۔ دلچسپ بات تو یہ ہے کہ موجودہ حکومت کے ایڈوکیٹ جنرل رام کرشنا ریڈی تحفظات کے کٹر مخالف ہیں ۔