مسلمانوں کا عرصہ حیات تنگ کرنے کی سازش

آج گورنر سے نمائندگی ، مختلف تنظیموں کی پریس کانفرنس ، عادل محمد خاں کا بیان
حیدرآباد۔17اپریل(سیاست نیوز) ریاست آندھرا پردیش میں پچھلے بیس سالوں سے مسلمان مختلف طریقوں سے ہراساں وپریشان کئے جارہے ہیں ۔ بے قصور نوجوانوں کی گرفتاری کا سوال ہو یا پھر غیر جمہوری انداز میںمسلمانوں کو جیلوں میںمحروس رکھنے کا عمل ہو۔ مکہ مسجد بم دھماکوں سے لیکر مولانا عبدالقوی کی غیر جمہوری گرفتاری کا مسئلہ ہو یہ تمام واقعات قومی سطح پر مسلمانوں کا عرصہ حیات تنگ کرنے کی سازش کا حصہ ہیں ۔ مختلف رضاکارانہ تنظیموں کی جانب سے منعقدہ پریس کانفرنس کے دوران سماجی جہدکار عادل محمد ان خیالات کا اظہار کررہے تھے ۔انہوں نے کہاکہ مولانا عبدالقوی کی غیرجمہوری گرفتاری او رغیر دستوری حراست میں جس حد تک گجرات پولیس قصور وار ہے اتنی ہی دہلی اور حیدرآباد پولیس ذمہ دارہے جس نے جوائنٹ آپریشن میںگجرات پولیس کا مکمل ساتھ دیا جبکہ دونوں ریاستوں میں کانگریس پارٹی برسراقتدار ہے۔مسٹر جیون کمار صدر سی ایل ایم سی نے میڈیا سے بات کرتے ہوئے کہاکہ بین الاقوامی دھشت گرد جیسا سلوک مولانا عبدالقوی کے ساتھ برتا گیا انہو ںنے مزید کہاکہ بنا ء کسی اطلاع اور وارنٹ کے مولانا کوگرفتار کرکے گجرات منتقل کردیا گیا جو قابلِ مذمت ہے ۔شریمتی سرسوتی نے پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے مولانا کی عاجلانہ رہائی کا مطالبہ کیاانہو ںنے کانگریس او ربی جے پی کو ایک سکہ کے دورخ قراردیتے ہوئے مسلم دانشواروں کی جانب سے کانگریس کی تائید کو بی جے پی کے تائید کے مماثل قراردیا۔ عام آدمی پارٹی آندھرا پردیش کوارڈینٹر مسٹر رام کرشنا راجو نے بھی مولانا عبدالقوی کی گرفتاری کی سخت الفاظ میںمذمت کی اور کہاکہ اس قسم کے واقعات کے ذریعہ کانگریس اور بی جے پی مسلمانوں کو احساس کمتری کا شکار بنانے کی کوشش کررہے ہیں۔پریس کانفرنس میں موجود تمام سماجی جہدکاروں کو سیاسی قائدین نے 18اپریل تک اس ضمن میں گورنر آندھرا پردیش سے ملاقات کا اعلان کیا اور کہاکہ اگر گورنر آندھرا پردیش مولانا عبدالقوی کی رہائی کے لئے نمائندگی کرنے والے وفد کے ساتھ تعاون کریں گے اور وفد سے ملاقات کا وقت دیں گے تو ٹھیک ورنہ اس مسئلہ کو ہم صدر جمہوریہ تک بھی لیکر جائیںگے اور کانگریس پارٹی کے حقیقی چہرے کو مسلمانوں کے سامنے پیش کرنے کی حکمت عملی کا بھی سہارا لیںگے۔