توشاہین ہے پروازہے کام تیرا تیرے سامنے آسمان اور بھی ہیں
مسلمانوں میں تعلیمی پسماندگی دورکرنے کا رحجان خوش آئندہ
تاریخی و باوقارحیدرآباد پبلک اسکول میں داخلوں کے لئے مسلمانوں میں مسابقت
حیدرآباد 17فروری (سیاست نیوز)۔حیدرآباد کے مسلمانوں میںتعلیمی بیداری کا رحجان دیکھاجارہاہے۔بیگم پیٹ میں واقع تاریخی حیدرآباد پبلک اسکول(HPS-B) میں بی سی ای زمرہ کے تحت اپنے بچوں کو داخلہ دلوانے کے لئے مسلمان اولیاء طلبا اور سرپرستوں میں مسابقت دیکھی گئی ہے۔حیدرآباد پبلک اسکول کے انتظامیہ کے مطابق بی سی ای زمرہ کے تحت اسکول میں داخلہ حاصل کرنے والے طلباء میں کافی اضافہ ریکارڈ کیاگیا ہے۔اورگذشتہ سال کے مقابلہ اس سال بی سی ای کے تحت داخلے کے لئے بڑی تعدادمیں درخواستیں وصول ہوئی ہیں۔تاہم اسکول انتظامیہ نے وصول درخواستوں اور داخلوں کے اعداد شمار بتانے سے انکارکردیاہے۔HPSانتظامیہ نے بتایاکہ داخلوں کی تکمیل کے بادجود کئی مسلم طلباء داخلوں کا انتظارکررہے ہیں۔نمائندہ سیاست نے حیدرآباد پبلک اسکول کے رکن بورڈآف گورنر ایم اے فیض خان سے خصوصی بات چیت کی ۔فیض خان نے نمائندے سیاست کو بتایاکہ ایس سی، ایس ٹی اورپسماندہ طبقات سے تعلق رکھنے والے طلباء کو حیدرآباد پبلک اسکول میں میں تحفظات فراہم کیے جاتے ہیں۔اسطرح مسلمانوں کو بھی بی سی ای زمرے کے تحت تحفظات فراہم کیے جارہے ہیں۔فیض خان کا کہناہے کہ مسلمان اپنی تعلیمی پسماندگی کو دور کرنے کی کوشش کررہے ہیں جو ایک خوش آئندہ بات ہے۔HPSکے بورڈ آف گورنر کے رکن نے اعتراف کیاکہ گذِشہ تین سے پانچ سال کے دوران بی سی ای کے تحت داخلوں کے درخواستیں کم تعداد میں موصول ہوتی تھی۔تاہم اس سال بی سی ای کے تحت داخلے حاصل کرنے والے طلباء میں مسابقت دیکھی گئی ہے۔فیض خان کا کہناہے کہ حیدرآباد پبلک اسکول اپنی سماجی ذمہ داری کو پورا کرنے کے لئے 1974ء سے ہی معاشی اور سماجی طورپرپسماندہ طبقات کو تحفظات فراہم کررہاہے ۔ فیض خان کاکہناہے کہ مسلمان تعلیمی پسماندگی کو دورکرتے ہوئے اپنی عظمت رفتہ کو بحال کرسکتے ہیں۔فیض خان کا کہنا ہے کہ HPS میں علامہ اقبال ؒ کی نظم شاہین پر عمل کرنے کی کوشش کی جاتی ہے۔HPSکے طلباء کو شاہن کی طرزپراڑان بھرنے کے قابل بنانے کی کوششیں کی جاتی ہے ۔ یہی وجہ ہے کہ حیدرآباد پبلک اسکول کو بین الاقوامی سطح پرشہرت ملی چکی۔اورپوری دینامیں HPSایک باوقارتعلیمی ادارہ بن چکا ہے ۔ ہمارے ملک بالخصوص آندھراپردیش کے کئی سیاست دانوں نے حیدرآباد پبلک اسکول میں ہی تعلیم حاصل کی ہے۔فیض خان نے بتایا کہ حال ہی میں مائیکروسافٹ کے سی ای او کے عہدے پرفائز ہونے والے ستیہ NADELLAنے بھی حیدرآباد پبلک اسکول سے ہی تعلیم حاصل کی ہے۔اسکول انتظامیہ نے بتایا کہ حیدرآباد میں آج اردو زبان کو پہلی زبان کا درجہ حاصل ہے۔اسکول میں داخلہ لینے والے طلباء اردو، انگریزی،تلگو سے کسی ایک زبان کا انتخاب کرسکتے ہیں۔ حیدرآباد پبلک اسکول کی تاریخ پر نظرڈالی جائے تو ہمیں پتہ چلے گاکہ سن 1919ء میں WEIKFIELDڈائریکٹرجنرل آف کورٹس (محکمہ مال) نے نظام ہفتم نواب میرعثمان علی خان کولندن کے ETONکالج کی طرز جاگیرداروں کے بچوں کی تعلیم کے لئے ایک اقامتی اسکول قائم کرنے کی تجویز پیش کی تھی۔تاکہ جاگیرداروں کے بچوں میں انتظامی صلاحیتوں کو ابھارہ جاسکے۔میرعثمان علی خان کی ہدایت پرمختلف جاگیرداروں نے اسکول کے قیام کے لئے زمین کا عطیہ دیاتھا۔شہزادی وقارالعمرہ نے اپنے محل ’’بیگم پیٹ اسٹیٹ کی 89ایکڑزمین کو اسکول کی عمارت تعمیرکرنے کے لئے عطیہ دیا ۔ اسکے علاوہ نظام حکومت نے جاگیرداروں سے 2فیصد سالانہ ٹیکس حاصل کرکے اسکول کی عمارت تعمیر کی۔اسکول کے تعمیر کے بعد جاگیرداروں کے بچوں کو مفت تعلیم فراہم کی گئی ۔
اسکول عمارت تعمیر ہونے کے بعد اسے ’’جاگیردارکالج‘‘ کا نام دیاگیا۔سن 1923ء میں 5طلباکے داخلوں کے بعد جاگیردار کالج میں تعلیم کا آغازہوگیا۔ اسکول کے پہلے پرنسپل ایچ ڈبلیو SHAWCROSSنے چھ اساتذہ کے ساتھ تدریس خدمات کا آغازکردیا۔سن 1929ء میں جاگیردار کالج کے طلباء نے پہلی بار سینئر CAMBRIDGEسے ”o”درج کا امتحان کامیاب کیا۔1930ء تک جاگیردارکالج میں طلباء کی تعداد 150تک پہنچ چکی تھی۔اورآج حیدرآباد پبلک اسکول میں2800طلباء زیور تعلیم سے آراستہ ہورہے ہیں۔15اگست 1947کو ہندوستان کی آزادی اورانڈین یونین میں حیدرآباد کے انضمام کے بعد 18 ستمبر1951ء میں حیدرآباد پبلک اسکول سوسائٹی رجسٹرڈ کرائی گئی۔سابق صدرجمہوریہ ڈاکٹر سروے پلی رادھاکرشنن اس سوسائٹی کے پہلے چیئرمین تھے۔ اس سوسائٹی کے حیدرآباد پبلک اسکول کے ذریعہ تعلیمی خدمات انجام دینے کے مقصد سے اس سوسائٹی کا قیام عمل میں لایاگیاہے۔ بدلتے وقت کے ساتھ جاگیردارکالج، حیدرآباد پبلک اسکول میں تبدیل ہوگیا ۔ اور1984ء سے اسکول میں لڑکیوں کو بھی تعلیم فراہم کی گئی ۔ حیدرآباد پبلک اسکول اب CO-EDUCATION ہے۔حیدرآباد پبلک اسکول کے رکن بورڈآف گورنر ایم اے فیض خان کاکہناہے کہ حیدرآباد پبلک اسکول کے ذریعہ طلباء کو آج بھی معیاری تعلیم فراہم کی جارہی ہے۔فیض خان نے بتایاکہ حیدرآباد پبلک اسکول میں قانون حق تعلیم پربھی عمل آوری کویقینی بنایاگیاہے۔