نئی دہلی ۔ /24 مئی (سیاست ڈاٹ کام) وزیر اقلیتی امور نجمہ ہبت اللہ نے اس استدلال کو مسترد کردیا کہ مسلمان نریندر مودی زیرقیادت بی جے پی حکومت میں عدم تحفظ کا شکار ہیں ۔ انہوں نے کہا کہ یہ طبقہ ہندوستان کی آزادی کے بعد سے ہی خود کو یکا و تنہا محسوس کررہا ہے ۔ کیوں کہ سابق کانگریس حکومتوں کی پالیسیاں ہی ایسی تھیں ۔ مسلمان الگ تھلگ اس لئے پڑگئے ہیں کیوں کہ وہ معاشی اور تعلیمی طور پر پسماندہ ہیں ۔ اب عوام یہ کہہ رہے ہیں کہ اس طرح کے بیان (مسلمانوں کے خلاف بیانات) انہیں یکا و تنہا ہونے کا احساس دلارہے ہیں ۔ نجمہ ہبت اللہ نے کہا کہ ایسا نہیں ہے کہ آج سے ہی مسلمان خود کو یکا و تنہا محسوس کررہے ہوں ۔ مسلمانوں کو آزادی کے بعد سے ہی محرومیوں کا احساس ہے ۔ وہ ایک سوال کا جواب دے رہی تھیں کہ آیا دائیں بازو عناصر کی جانب سے کئے جانے والے تبصروں اور نفرت انگیز تقاریر اور قابل اعتراض ریمارکس کی وجہ سے مودی حکومت میں مسلم طبقہ خود کو بے بس اور محروم سمجھ رہا ہے ۔ نجمہ ہبت اللہ نے کہا کہ مسلمانوں کو پہلے ہی سے الگ تھلگ کردیا گیا ہے ۔ اب وہ پسماندگی کی انتہائی ابتر صورتحال کو پہونچ گئے ہیں ۔ سماجی محرومی بھی اس سے مربوط ہے ۔ یہی ساری صورتحال کا مغز ہے ۔ آپ کو یہ نہیں سمجھنا چاہئیے کہ کسی کے بیان سے کوئی تنہا پڑجاتا ہے ۔ کانگریس پر تنقید کرتے ہوئے وزیر اقلیتی امور نے کہا کہ کانگریس کی سابق حکومتوں میں پارٹی نے مسلمانوں سے صرف زبانی ہمدردی کی ہے ۔ جبکہ موجودہ حکومت نے پالیسی اقدامات اور پروگراموں کے ذریعہ حرکیاتی کام انجام دینے شروع کئے ہیں ۔
تاہم وزیر اقلیتی امور نے بی جے پی کے بعض قائدین اور وزراء کے اشتعال انگیز قابل اعتراض بیانات پر ردعمل ظاہر کرنے سے انکار کیا یا پھر گھر واپسی پروگرام اور بعض ریاستوں میں گوشت پر امتناع جیسے سوال کا جواب دینے سے انکار کیا ۔ انہوں نے امریکی مذہبی امور کمیٹی کی اس رپورٹ کو بھی مسترد کردیا کہ ہندوستان میں فرقہ وارانہ فضاء سال 2014 ء کے عام انتخابات کے بعد سے نازک ہوگئی ہے ۔
انہوں نے کہا کہ جو لوگ بیرون ملک بیٹھے ہیں و اکثر حقائق سے واقف نہیں ہوتے لوگ کہیں دوسری جگہ بیٹھ کر رپورٹ تیار کرتے ہیں ۔ انہیں اس بات کا احساس نہیں ہوتا کہ ہندوستانی سماج کے حساس کردار کی نوعیت کیا ہے ۔ مواضعات میں ہندو اورمسلمان مل جلر کر رہتے ہیں اور صدیوں سے یہی ہوتا چلاآرہا ہے ۔ کانگریس نے برسوں حکومت کی لیکن سرکاری ملازمتوں میں مسلمانوں کا فیصد صفر رہا ہے ۔ یہ سب آر ایس ایس نے نہیں کیا ہے یہ تو کانگریس حکومتیں تھیں اس کے لئے کانگریس ہی ذمہ دار ہے ۔ وزیر اقلیتی امور نے کہا کہ اس سال ان وزارت کو مختص کردہ بجٹ میں کمی نہیں کی گئی ہے ۔ انہوں نے اقلیتی ترقی اور فینانس کارپوریشن کے لئے سرمایہ کی شرح میں 500 کروڑ سے بڑھاکر 3000 کروڑ روپئے کردیا گیا ہے ۔