ممبئی ۔ 15 اپریل (سیاست ڈاٹ کام) مسلمانوں کو حق رائے دہی سے محروم کرنے کے مطالبہ پر ایک بڑا تنازعہ پیدا کرنے کے چند بعد ہی شیوسینا آج پھر ایک تنازعہ پیدا کرتے ہوئے مسلمانوں اور عیسائیوں کی لازمی خاندانی منصوبہ بندی کے ذریعہ ان کی بڑھتی ہوئی آبادی پر قابو پانے کی وکالت کی۔ حکمراں بی جے پی کی حلیف شیوسینا نے اپنے ترجمان روزنامہ ’’سامنا‘‘ کے اداریہ میں لکھا کہ ’’آبادی میں اضافہ کے ذریعہ کوئی اس ملک کو پاکستان میں تبدیل کرسکتا ہے لیکن کوئی اپنے خاندان کو ایک معیاری زندگی فراہم نہیں کرسکتا‘‘۔ شیوسینا نے اس مسئلہ پر آل انڈیا ہندو مہا سبھا کی نائب صدر سادھوی دیوا ٹھاکر کے نظریات کی تائید بھی کی لیکن کہا کہ ان (سادھوی) نے اظہارخیال میں الفاظ کا غلط انتخاب کیا تھا۔
سادھوی نے کہا تھا کہ مسلمانوں اور عیسائیوں کی آبادی میں اضافہ ملک کیلئے خطرناک ہے۔ چنانچہ ان کی جبری نس بندی کی جانی چاہئے۔ شیوسینا نے کہا کہ سادھوی کو چاہئے تھا کہ وہ جبری نس بندی کے بجائے لازمی فیملی پلاننگ کا لفظ استعمال کرنا چاہئے تھا۔ جبری نس بندی سے متعلق ان کے الفاظ کو نظرانداز کردیا جانا چاہئے لیکن حقیقت یہی ہیکہ ان (مسلمانوں اور عیسائیوں) کی آبادی اور خاندانی منصوبہ بندی بدستور ایک مسئلہ ہے۔ سامنا نے مزید لکھا کہ خاندانی منصوبہ بندی کی صورت میں کوئی شخص اپنے خاندان کی مناسب دیکھ بھال کرسکتا ہے اور بچوں کو معیاری تعلیم فراہم کرسکتا ہے۔ اس زعفرانی جماعت نے کہا کہ وہ مسلمانوں کی نس بندی کی وکالت کرتے ہوئے ان کی معیاری زندگی کی خواہاں ہے۔
درخواست ضمانت پر اندرون ایک ماہ فیصلے کی ہدایت
سادھوی پرگیہ اور لیفٹننٹ کرنل کی اپیل پر سپریم کورٹ احکام
نئی دہلی ۔ 15 اپریل (سیاست ڈاٹ کام) سپریم کورٹ نے مہاراشٹرا میں تحت کی ایک عدالت سے کہا ہیکہ بشمول سادھوی پرگیہ سنگھ ٹھاکر 2008ء کے مالیگاؤں دھماکوں کے تمام ملزمین کی درخواست ضمانت پر اندرون ایک ماہ فیصلہ کرے۔ جسٹس خلیف اللہ اور جسٹس شیوا کیرتی سنگھ پر مشتمل ایک بنچ نے یہ بھی کہا کہ مہاراشٹرا کے سخت گیر قانون ’مکوکا‘ کی بعض دفعات کو ان ملزمین کی درخواست ضمانت پر فیصلہ کے دوران ملحوظ نہ رکھا جائے لیکن ایک ملزم راکیش ڈی دھاوڑے پر اس ہدایت کا اطلاق ہوگا کیونکہ وہ مالیگاؤں دھماکہ سے قبل بھی ایسے ہی جرائم میں ملوث تھا۔ بمبئی ہائیکورٹ کی طرف سے درخواست ضمانت مسترد کئے جانے کے بعد ملزمین عدالت عظمیٰ سے رجوع ہوئے تھے۔ انہوں نے منظم جرائم کے مخالف قانون مکوکا کے تحت مقدمات درج کرنے بمبئی ہائیکورٹ کی ہدایت کو بھی چیلنج کیا تھا۔ ہائیکورٹ نے حکم دیا تھا کہ پرگیہ اور دیگر 10 ملزمین مکوکا کے تحت مقدمہ کا سامنا کریں۔ اس نے خصوصی قانون کے تحت الزامات سے دستبرداری سے متعلق خصوصی عدالت کے فیصلے کو کالعدم کردیا تھا۔ مالیگاؤں دھماکہ کیس کے اہم ملزمین میں سادھوی پرگیہ کے علاوہ لیفٹننٹ کرنل پروہت بھی شامل ہے۔ 29 ستمبر 2008ء کو ہوئے مالیگاؤں بم دھماکہ میں 7 افراد ہلاک ہوگئے تھے۔