مسرت عالم کی رہائی پر پارلیمنٹ میں احتجاج

نئی دہلی ۔ 9 مارچ ۔ ( سیاست ڈاٹ کام ) جموںو کشمیر میں علحدگی پسند کی رہائی پر پارلیمنٹ میں آج شدید برہمی کا اظہار کیا گیا اور وزیراعظم نریندر مودی بھی اس میں شریک ہوگئے اور انھوں نے ریاستی حکومت کے فیصلے کی مذمت کی ۔ نریندر مودی نے کہاکہ قومی یکجہتی کیلئے اُن کی حکومت کوئی بھی قربانی دینے تیار ہے ۔ اپوزیشن جماعتوں نے مسرت عالم کو رہا کرنے کے فیصلے پر شدید تنقید کی ، جس کی وجہ سے وزیر داخلہ راجناتھ سنگھ کو یہ اعتراف کرنا پڑا کہ پی ڈی پی کے ساتھ نظریاتی اختلافات پائے جاتے ہیں۔ تاہم انھوں نے کہاکہ کسی کو بھی خواہ وہ کتنا ہی طاقتور کیوں نہ ہو قومی یکجہتی سے کھلواڑ کی اجازت نہیں دی جائے گی ۔ آج لوک سبھا اور راجیہ سبھا ارکان میں علحدگی پسند لیڈر کی رہائی پر برہمی ظاہر کرتے ہوئے اسے مخالف قوم اقدام قرار دیا۔ اور کہا کہ یہ ملک کی سالمیت کیلئے خطرناک ہے ۔ اپوزیشن نے بی جے پی کو اس مسئلہ پر مفتی محمد سعید زیرقیادت حکومت کی تائید سے دستبرداری کا چیلنج کیا۔ لوک سبھا میں نریندر مودی نے کہا کہ وہ ارکان کی برہمی سے اتفاق کرتے ہیں اور جو بھی ضرورت ہوگی وہ کارروائی کی جائے گی ۔ انھوں نے یہ بھی کہا کہ علحدگی پسند لیڈر کی رہائی ناقابل قبول ہے ۔ انھوں نے کہا کہ حکومت قومی یکجہتی کے معاملے میں کوئی سمجھوتہ نہیں کرے گی اور کسی طرح کی رواداری نہیں برتے گی ۔ مرکز نے اس واقعہ کے سلسلے میں ریاستی حکومت سے وضاحت طلب کی ہے ۔ آج پارلیمنٹ میں تمام ارکان نے ایک آواز ہوکر اس واقعہ کی مذمت کی ۔ مودی نے ملک کو یہ یقین دہانی کرائی کہ جو کچھ ہوا ہے حکومت اسے قبول نہیں کریگی ۔ وزیرداخلہ نے دونوں ایوانوں میں اس مسئلہ پر بیان دیتے ہوئے کہا کہ جموںو کشمیر ملک کا اٹوٹ حصہ ہے ۔ انھوں نے مسرت عالم کی رہائی کے فیصلے کے پس پردہ خفیہ ایجنڈے کے الزامات کو مسترد کردیا۔ انھوں نے کہا کہ ہم قومی اتحاد کیلئے کوئی بھی قربانی دینے تیار ہیں ۔ انھوں نے پارلیمنٹ کو یہ یقین دلایا کہ مرکز ایک سخت ہدایت نامہ جاری کرنے سے گریز نہیں کرے گا اور اس معاملے میں جو بھی کارروائی کی جائے گی ایوان کو مطلع کیا جائے گا ۔ اپوزیشن جماعتوں بشمول کانگریس ، ٹی ایم سی اور آر جے ڈی کے ارکان حکومت کے جواب سے مطمئن نہیں تھے اور انھوں نے ایوان سے واک آؤٹ کردیا۔ وزیرداخلہ نے کہا کہ ہفتہ کو مسرت عالم کی رہائی کے فوری بعد مرکز نے ریاستی حکومت سے وضاحت طلب کی تھی ۔ حکومت کا جواب اطمینان بخش نہیں تھا اور مزید وضاحت طلب کی گئی ہے ۔ جموںو کشمیر میں پی ڈی پی کے ساتھ تشکیل حکومت کو منصفانہ قرار دیتے ہوئے انھوں نے کہاکہ عوام کے معلق فیصلہ کی وجہ سے ایسا ضروری ہوگیا تھا ، بی جے پی نے صرف اس لئے اتحاد کیا ہے تاکہ ریاست کی ترقی یقینی ہوسکے ۔