نئی دہلی۔ 8 مارچ (سیاست ڈاٹ کام) کشمیر کے سخت گیر حریت لیڈر مسرت عالم کی رہائی کی مذمت کرتے ہوئے کانگریس نے آج وزیراعظم نریندر مودی سے مطالبہ کیا کہ وہ جموں و کشمیر کی پی ڈی پی۔ بی جے پی حکومت کی ’’مسلسل مہم جوئی‘‘ پر اپنا موقف واضح کریں۔ جموں و کشمیر حکومت کے ایسے اقدامات نے وادی میں امن کو خطرہ میں ڈال دیا ہے۔ اے آئی سی سی میں کمیونیکیشن ڈپارٹمنٹ کے انچارج رندیپ سرجیوالا نے کہا کہ ’’مسرت عالم کی رہائی کی ہم سخت مذمت کرتے ہیں۔ وزیراعظم اور بی جے پی کو جواب دینا ہوگا کہ پی ڈی پی۔ بی جے پی حکومت کے یکے کے بعد دیگرے یکطرفہ فیصلوں کے ذریعہ آخر کیوں جموں و کشمیر میں امن کی فضاء بگاڑنے کی کوشش کی جارہی ہے‘‘۔ سرجیوالا نے یاد دلایا کہ پی ڈی پی۔ بی جے پی حکومت کی حلف برداری کے فوری بعد چیف منسٹر مفتی سعید نے اس ریاست میں پرامن رائے دہی کے لئے جموں و کشمیر کے عوام، سکیورٹی فورسیس اور الیکشن کمیشن کے مثالی آہن عزم و جذبہ کی ستائش کرنے کے بجائے پاکستان ، علیحدگی پسندوں اور دہشت گردوں کا شکریہ ادا کیا تھا۔ انہوں نے کہا کہ ’’سنگباری کا پرچار کرنے والے مسرت عالم کی رہائی نے جموں و کشمیر کے عوام اور ہمارے سکیورٹی فورسیس کی طرف سے اس ریاست میں قائم کردہ امن کو مزید خطرہ لاحق ہوگیا ہے‘‘۔
سرجیوالا نے وزیراعظم سے مطالبہ کیا کہ قوم کو اس بات کا جواب دیا جائے کہ آیا وہ بھی جموں و کشمیر میں اپنی پارٹی کی مخلوط حکومت کے غلط فکر پر مبنی ریمارکس اور مہم جوئی سے اتفاق کرتے ہیں۔ اس دوران کشمیری علحدگی پسند لیڈر کی رہائی پر بی جے پی کو حلیف جماعتوں کی بھی تنقیدوں کا سامنا ہے ۔ شیوسینا کے ترجمان سنجے راوت نے کہا کہ کشمیر میں جو کچھ ہورہا ہے اس تعلق سے ہم پہلے ہی خبردار کرچکے تھے ۔ انہوں نے کہا کہ یہ آگ سے کھیلنے کے مترادف ہے ۔ نیشنل کانفرنس لیڈر دیویندر رانا نے کہا کہ بی جے پی اور پی ڈی پی دو مخالف سمتوں میں چلنے والی جماعتیں ہیں ۔ یہ دونوں بھی جماعتیں آگ سے کھیل رہی ہیں ۔ وہ جموںو کشمیر میں انتہاپسند عناصر کی حوصلہ افزائی کررہی ہے تاکہ مشترکہ اقل ترین پروگرام سے عوامی توجہ ہٹائی جاسکے ۔
کیونکہ یہ پروگرام صرف ایک دکھاوا ہے ۔ انہوں نے مخلوط حکومت کو ’’فکسڈ میاچ‘‘ قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہ انتہائی خطرناک کھیل ہے اور اس کے نتیجہ میں ریاست تباہی کی راہ پر جاسکتی ہے ۔ کانگریس کے ایک اور لیڈر منیش تیواری نے کہا کہ جن حالات میں علحدگی پسند لیڈر کو رہا کیا گیا وہ انتہائی اہمیت رکھتے ہیں ۔ انہوں نے کہا کہ جموں میں بی جے پی احتجاج کررہی ہے اور دہلی میں خاموش ہے ۔ انہوں نے ٹوئٹر پر وزیراعظم نریندر مودی سے سوال کیا کہ وہ سیاسی قیدی یا دہشت گرد ہے ؟