مسرت عالم کا پولیس ریمانڈ ، جموں و کشمیر میں پُرتشدد جھڑپیں

سرینگر ، 17 اپریل (سیاست ڈاٹ کام) ایک عدالت نے آج رات علحدگی پسند لیڈر مسرت عالم بھٹ کو ریمانڈ میں بھیج دیا، جسے ایک ریلی میں موافق پاکستان نعرے بازی کرنے اور پاکستان کے پرچم لہرانے پر حراست میں لیا گیا۔ بڈگام کی عدالت نے اسے سات روزہ پولیس تحویل میں دیا ہے۔ مسرت کو متعلقہ جج کے روبرو پیش کیا گیا جنھوں نے اسے 23 اپریل تک پولیس تحویل میں بھیج دیا۔ قبل ازیں 45 سالہ کٹرپسند کو آج صبح کے اوائل شہر کے علاقہ ہبہ کدال میں واقع اُس کے گھر سے گرفتار کیا گیا اور باغیانہ سرگرمیوں کی قیادت اور قوم کے خلاف جنگ چھیڑنے کے الزامات عائد کردیئے گئے۔ دریں اثناء مسرت کی گرفتاری اور ترال کی ہلاکتوں کے خلاف سرینگر کی سڑکوں پر آج تشدد پھوٹ پڑا جس میں احتجاجیوں نے قومی پرچم نذر آتش کئے اور سکیورٹی فورسس کے ساتھ اُن کی جھڑپیں ہوئیں۔ سرکاری ذرائع نے کہا کہ جموں و کشمیر کے دارالحکومت کا علاقہ نوہتہ لڑائی کے مقام کا منظر پیش کررہا ہے

جہاں نقاب پوش احتجاجیوں نے ترنگے کو نذر آتش کیا اور سکیورٹی فورسیس کے ساتھ جھڑپ کی جس کے نتیجے میں لگ بھگ ایک درجن افراد زخمی ہوئے جن میں دو پولیس ملازمین شامل ہیں۔ احتجاجیوں کو پولیس والوں پر پتھراؤ کرتے ہوئے بھی دیکھا گیا، جنھوں نے جوابی کارروائی میں آنسو گیس کے شلس استعمال کئے اور پُرتشدد ہجوم کو منتشر کرنے کیلئے طاقت کا استعمال بھی کیا۔ مسرت عالم نے کہا کہ اُن کی گرفتاری کوئی نئی بات نہیں کیونکہ جموں و کشمیر پر طاقت کی حکمرانی ہے ۔ انہوں نے کہا کہ جموں و کشمیر میں پاکستانی پرچم لہرانا اور پاکستان کی تائید میں نعرے بازی بھی کوئی نئی بات نہیں ہے اس کا سلسلہ 1947 سے جاری ہے ۔ یہ گرفتاری سخت گیرحریت کانفرنس کے صدر نشین سید علی شاہ گیلانی کی جانب سے ترال کے علاقہ میں ایک جلوس نکالنے کی اپیل سے چند گھنٹے قبل عمل میں آئی ۔ جموں سے موصولہ اطلاع کے بموجب مرکزی وزیر مملکت برائے دفتر وزیر اعظم جیتندر سنگھ نے کہا کہ اصولوں کی بنیاد پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا ۔ انہوں نے بی جے پی ۔پی ڈی پی مخلوط حکومت کو ریاستی حکومت کو ’’خالص حکمرانی‘‘ کرنے کا مشورہ دیا ، چاہے کافی مختلف نظریات ریاست میں کیوں نہ ہوں ۔ انہوں نے کہا کہ جہاں تک مرکز اور ریاستوں کی بی جے پی زیر قیادت حکومتوں کا سوال ہے موقف قوم پرستی کے تعلق سے ہمیشہ مستقل رہا ہے ۔دہشت گردی کو قطعی برداشت نہیں کیا جاسکتا اور نہ جموں و کشمیر کی بی جے پی۔پی ڈی پی مخلوط حکومت کو انتہا پسندی برداشت کرنی چاہئے ۔ اس سوال پر کہ کیا مفتی حکومت نے بی جے پی کے دباؤ کے آگے گھٹنے ٹیک دیئے، انہوں نے جواب دیا کہ یہ دباؤ کا معاملہ نہیں بلکہ حکومت نے کارروائی کی ہے ۔

کشمیر میں طاقت کا استعمال، پاکستان کا اظہار مذمت
اسلام آباد کی اطلاع کے بموجب پاکستان نے آج ہندوستانی حکام کی جانب سے جموں و کشمیر میں احتجاجیوں کے خلاف مبینہ طور پر ’’طاقت کے استعمال‘‘ کی مذمت کی ہے۔ پاکستان کے دفتر خارجہ کی ترجمان تسنیم اسلم نے جموں و کشمیر کی صورتحال کے ضمن میں ایک بیان جاری کیا ہے۔ انھوں نے کہا کہ پاکستان کشمیریوں کی اپنے ’’حق خوداختیاری‘‘ کیلئے جدوجہد کو واجبی قرار دیتا ہے جیسا کہ اقوام متحدہ سلامتی کونسل کی قراردادوں میں صراحت کی گئی ہے۔ تسنیم نے کہا کہ پاکستان پُرامن اور غیرمسلح کشمیریوں کے خلاف ہندوستانی سکیورٹی فورسیس کے ظالمانہ استعمال کی مذمت کرتا ہے۔ انھوں نے کہا کہ پاکستان نے کشمیریوں کی جدوجہد برائے خوداختیاری کیلئے سفارتی، اخلاقی اور سیاسی تائید تسلسل کے ساتھ پیش کی ہے۔

ہندوستان کی سالمیت کو توڑنے کی اجازت نہیں : راجناتھ
کانپور سے موصولہ اطلاع کے مطابق مرکزی وزیر داخلہ راجناتھ سنگھ نے آج کہا کہ ہندوستان کی ایکتا اور سالمیت ’’ناقابل شکن‘‘ ہیں اور کسی کو بھی انھیں توڑنے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔ ’’میں اہل وطن کو تیقن دینا چاہوں گا کہ کسی کو بھی اس ملک کی ایکتا اور سالمیت کو توڑنے کی اجازت نہیں دی جائے گی چاہے وہ مسرت عالم ہو یا کوئی دیگر،‘‘ راجناتھ نے یہاں ماتی میں منعقدہ ایک ریلی سے خطاب کے بعد میڈیا کے نمائندوں کو یہ بات بتائی۔ جموں و کشمیر کی پی ڈی پی۔ بی جے پی مخلوط حکومت کا دفاع کرتے ہوئے راجناتھ نے کہا کہ حتیٰ کہ ریاستی حکومت نے تک اس طرح کی مخالف ہندوستان سرگرمیوں کا اندازہ نہیں کیا تھا۔ انھوں نے چیف منسٹر جموں و کشمیر مفتی محمد سعید کو مسرت کی گرفتاری پر مبارکباد دی۔ انھوں نے کہا کہ ہندوستان کو پاکستان کے ساتھ بہتر روابط برقرار رکھنے کی ضرورت ہے۔