حیدرآباد ۔ 7 ۔ مئی : سرزمین دکن میں جب کبھی مساجد کا تذکرہ آتاہے تو سب سے پہلے حیدرآباد کی تاریخی مسجد ، مکہ مسجد کا نام سرفہرست ہوتا ہے جب کہ اس کے اطراف و اکناف میں سینکڑوں ایسی مساجد ہیں جن کی اپنی ایک اہم شناخت اور تاریخ بھی ہے ۔ ایسی ہی ایک مسجد ، پرانا پل کے کنارے مسجد میاں مشکؒ کے نام سے مشہور ہے ۔ قطب شاہی دور میں ایک بزرگ شخصیت حضرت میاں مشک ؒ بھی ہوا کرتے تھے جنہوں نے تاریخی پرانا پل کے کنارے5 ایکڑ 3 گنٹوں پر خوبصورت وسیع و عریض اور فن تعمیر کی شاہکار مسجد وسیع اراضی پر تعمیر کروائی گئی اس مسجد کی تعمیر میں رضا الہیٰ کے علاوہ مستقبل میں مسجد کی کشادگی اور اس میں موجود دینی مدرسہ شفا خانہ سے عوام الناس کو مستفید ہونے میں دشواریوں کو دور کرنا تھا
لیکن حالیہ عرصے میں مسجد کی زبوں حالی ، خستہ عمارت اور محکمہ آثار قدیمہ کی مجرمانہ غفلت کے متعلق روزنامہ سیاست نے متعدد مرتبہ رپورٹس شائع کرتے ہوئے اس کی عظمت رفتہ کو بحال کرنے کی کوشش کی ہے ۔ اس کے بہتر نتائج برآمد ہونے کے علاوہ اس تاریخی مسجد میاں مشک ؒ کی داغ دوزی کا کام بھی شروع ہوچکا ہے ۔ یاد ہوگا کہ روزنامہ سیاست نے 4 دسمبر 2011 کو اپنی رپورٹ میں اس مسجد کی خستہ حالی ، داغ دوزی کی ضرورت اور محکمہ آثار قدیمہ کی لاپرواہی کی تفصیلات فراہم کی تھی ۔ بعد ازاں 30 اکٹوبر 2012 کو ملگیات کے کرائے سے ایک لیٹر پٹرول کی خریداری بھی مشکل ہے ۔اس جانب توجہ مبذول کروائی تھی ۔ مسجد میاں مشک ؒ کے متعلق ایک اور رپورٹ 29 مئی 2012 کو شائع کرتے ہوئے اس میں 99 ملگیات ، 35 کمروں کی تفصیلات کم کرایوں اور وقف بورڈ کی لاپرواہی کے متعلق شعور بیدار کرنے کے علاوہ ارباب مجاز کو خواب غفلت سے جگایا تھا ۔
اب محکمہ آثار قدیمہ کی جانب سے اس تاریخی مسجد کے 2 میناروں کی 6 لاکھ روپئے لاگت سے داغ دوزی کی جارہی ہے ۔ گنٹور سے تعلق رکھنے والے 6 کاریگر گذشتہ 15 دنوں سے اس کام پر مامور ہونے کے علاوہ مسلسل تعمیری کام انجام دے رہے ہیں اور آئندہ 15 دنوں میں یہ کام مکمل ہوجائے گا ۔ مسجد میاں مشک ؒ کی عظمت رفتہ کی بحالی کے لیے روزنامہ سیاست نے جو نیک نیتی سے رپورٹس شائع کی ہیں اس کے مثبت نتائج برآمد ہورہے ہیں لیکن اس مسجد کے متعلق وقف بورڈ کو ہنوز حرکت میں آتے ہوئے کچھ اور اقدامات کرنے باقی ہیں کیوں کہ اس مسجد کی 99 ملگیات اور 35 کمروں کا کرایہ آج کی مہنگائی سے کسی بھی طرح میل نہیں کھاتا ۔ بلکہ ذرائع کا یہ بھی کہنا ہے کہ مسجد کی کمیٹی وقف بورڈ کو حساب کتاب بتانے میں بھی لاپرواہی برت رہی ہے ۔۔
تاریخی ٹولی مسجد کا 8 لاکھ روپئے سے داغ دوزی کا کام
شہر کی بیشتر تاریخی مساجد کی خستہ حالی ، وقف بورڈ کی لاپرواہی اور تاریخی ورثہ کے بقاء کے لیے روزنامہ سیاست کی رپورٹس کے مثبت اثرات ظاہر ہوئے ہیں جیسا کہ محکمہ آثار قدیمہ کی جانب سے تاریخی ٹولی مسجد کا 8 لاکھ روپیوں کے اخراجات سے داغ دوزی کا کام ، حالیہ دنوں میں مکمل ہوا ہے جب کہ پرانا پل کی تاریخی مسجد میاں مشک ؒ کے 2 میناروں کی داغ دوزی کا کام 6 لاکھ روپئے کے مصارف سے انجام دیا جارہا ہے ۔ تاریخی مساجد کو 6 ، 7 اور 8 لاکھ روپئے کے چھوٹے بجٹ سے صرف وقتی داغ دوزی کے ذریعہ اس کی انتہائی خستہ حالت کو کسی قدر سدھارنے کا کام ہورہا ہے جو کہ تاریخی مساجد کی اہمیت اور تاریخی عمارتوں کے لیے ناکافی ہے ۔۔