حیدرآباد ۔ 13 ۔ مارچ : ( نمائندہ خصوصی ) : مسجد فلک نما جو عرصہ دراز سے غیر آباد تھی پچھلے دنوں مسلم نوجوانوں نے اسے اپنے سجدوں سے آباد کردیا ۔ اور اس میں باضابطہ پنجہ وقتہ نمازوں کا اہتمام ہوچکا ہے ۔ آج اس تاریخی مسجد فلک نما میں نماز جمعہ کا اہتمام کیا گیا جس میں بتایا جاتا ہے کہ تقریبا 5000 افراد نے نماز جمعہ ادا کی ۔ جس کی وجہ آج یہ علاقہ نماز عید کا منظر پیش کررہا تھا ۔ روزنامہ سیاست غیر آباد مساجد کے حوالے سے باضابطہ ایک مہم کی شکل غیر آباد مساجد کو آباد کرانے کے لیے مسلسل اور تصاویر کے ساتھ رپورٹیں شائع کرتا رہا ہے ۔ جس میں مذکورہ غیر آباد مسجد فلک نما بھی شامل ہے ۔ اور الحمدﷲ اس کا مثبت اثر ہوا اور یہ مسجد اب آباد ہوگئی ۔ سچ تو یہ ہے کہ اللہ کے گھروں کو وہی لوگ آباد کرتے ہیں جسے اللہ تعالیٰ اس مقدس کام کے لیے منتخب کرلیتا ہے ۔ آج نماز جمعہ کے موقع پر کیا بچے ، کیا بوڑھے اور کیا نوجوان مسجد فلک نما پہنچنے کے لیے سو فٹ کی بلندی کا راستہ طئے کیا چونکہ فی الوقت اس مسجد تک پہنچنے کے لیے سیڑھی بھی موجود نہیں ہے ۔ مگر راستہ نہ ہونے کے باوجود بچے بوڑھے اور نوجوان مصلی اس پتھریلے مقام پر چڑھتے ہوئے نماز جمعہ ادا کی ۔ مصلیوں کی اس قدر تعداد کے مد نظر پولیس اور سیکوریٹی کا معقول انتظام کیاگیا اور کچھ دیر کے لیے راستے بھی بند کردئیے گئے تھے ۔ واضح رہے کہ اسپیشل آفیسر وقف بورڈ محمد جلال الدین اکبر نے گذشتہ روز مسجد فلک نما میں نماز عصر ادا کرنے کے بعد اعلان کیا ہے کہ وہ بہت جلد اس مسجد تک پہنچنے کے لیے سیڑھیوں کی تعمیر کرائیں گے ۔ لہذا اب مصلیاں مسجد اس اعلان پر عمل آوری کا بے صبری سے انتظار کررہے ہیں ۔ واضح رہے کہ فی الوقت یہاں وضو اور طہارت کا بھی انتظام نہیں ہے ۔ جب کہ مسجد کی چھت بہت ہی خراب حالت میں ہے اس کی بھی مرمت اور داغ دوزی کی سخت ضرورت ہے ۔۔