مسجد عامرہ عابڈس کی اراضی پر غیر قانونی تعمیری سرگرمیاں

وقف بورڈ کے بدعنوان عہدیداروں کی ملی بھگت‘قیمتی اراضی کو ہڑپنے کی سازش
حیدرآباد۔8فبروری(سیاست نیوز) قلب شہر میں واقع مسجد عامرہ عابڈس سے متصل اراضی پر تعمیری سرگرمیوں کے خلاف مصلیان مسجد عامرہ کے اندر تشویش پائی جاتی ہے۔ مصلیان مسجد کے مطابق مسجد سے متصل اراضی جہاں پر تعمیر ی سرگرمیا ںکی جارہی ہیں وہ دراصل وقف اراضی ہے اور پچھلے کئی دنوں سے مصلیان مسجد کا وفد وقف بورڈ سے مذکورہ غیرقانونی سرگرمیوں کو روکنے کے متعلق نمائندگی بھی کرتا آرہا ہے مگر چند دن پہلے وقف بورڈ کے چند عہدیداروں نے تعمیرسرگرمیوں کا معائنہ بھی کیامگر اب تک غیر قانونی طورپر کی جارہی تعمیری سرگرمیوں کو روکنے میںوہ ناکام رہے ۔ مصلیان مسجد عامرہ نے بتایا کہ انہیں باوثوق ذرائع سے پتہ چلا ہے کہ وقف بورڈ کے متعلقہ انسپکٹر کی ملی بھگت سے یہ تعمیری سرگرمیاں جاری ہیں اور مصلیان مسجد کو اس بات کا قوی خدشہ ہے کہ ریاستی وقف بورڈ کے غیرذمہ دار اور بدعنوان عہدیداروں کی ملی بھگت سے مسجد کے لئے وقف کردہ قیمتی اراضی سے مسجد کو ہاتھ دھونا پڑیگا۔مصلیان مسجد نے مزید بتایاکہ پچھلے سات سالوں سے محکمے وقف بورڈ کو مسجد سے متصل اراضی کے متعلق معلومات فراہم کئے جارہے ہیںمگر چند دن قبل وقف بورڈ نے مسجد کمیٹی کو تحلیل کردیا جس کے سبب وقف اراضی کے تحفظ کے متعلق چلائے جانے والے تحریک میںرکاوٹیں بھی پیدا ہوئی جس کا فائدہ اٹھاتے ہوئے وقف بورڈ کے بدعنوان عہدیداروں کی ملی بھگت سے مسجد کے لئے وقف کردہ اراضی پر تعمیرسرگرمیوںکا منصوبہ تیا ر کیاگیاجبکہ کمیٹی کی عدم موجودگی کے سبب پیدا شدہ تعطل کودور کرنے کے مسجد عامرہ عابڈس کے معمر اور مستقل مصلیوں نے وقف بورڈ کو مذکورہ تعمیرات کے متعلق واقف بھی کروانے کاکام کیاہے۔ مصلیان مسجد عامرہ عابڈس کو اس بات کا بھی خدشہ لاحق ہے کہ مسجد سے متصل قیمتی وقف اراضی وقف بورڈ کے بد عنوان عہدیداروں کی ملی بھگت سے سازش کا شکار بن جائے گی۔مصلیان مسجد نے اتوار کی شب بعد نماز عشاء مشاورات کے بعد اپنے پڑوسی کو طلب کرتے ہوئے اس سے اراضی کے متعلق دستاویزات دیکھنے کی خواہش ظاہر کی اور پیرکے دن وقف بورڈ سے دوبارہ رجوع ہوکر مسجد کی وقف اراضی کو تحفظ فراہم کرنے کے متعلق دوبارہ نمائندگی کرنے کا بھی فیصلہ لیا ہے۔