مستقبل کے دفاعی خطرات کا پتہ چلانا ضروری

نئی دہلی ۔ 2 ۔ ڈسمبر (سیاست ڈاٹ کام) مرکزی وزیر سریش پربھو نے آج ایک ایسا ادارہ قائم کرنے کی تائید کی جو ملک کو مستقبل میں درپیش ’’دفاعی خطروں‘‘ کا تخمینہ کرسکے۔ انہوں نے کہا کہ خارجہ پالیسی اور ملک کی صیانت کے مسائل کے بارے میں مملکت کا کردار ’’توقع سے زیادہ عظیم تر‘‘ ہے اور زیادہ سے زیادہ ریاستوں کو اس میں شامل کرنے کی ضرورت ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہمیں ضرورت ہے کہ ہندوستان کو درپیش دفاعی خطروں کا تخمینہ کرنے کیلئے ایک ادارہ سب سے پہلے قائم کریں۔ آئندہ 10 تا 15 سال کی مدت میں ہندوستان کو کونسے دفاعی خطرے درپیش ہوں گے، ان کی پیش قیاسی اس تخمینہ کی بنیاد پر کی جاسکتی ہے۔ وہ ’’ہندوستان کو درپیش کلیدی چیالنجس برائے قومی سلامتی‘‘ کے موضوع پر منعقدہ گول میز کانفرنس سے خطاب کر رہے تھے جس کا اہتمام ہندوستانی قونصل برائے عالمی امور اور دی ٹریبیون گروپ آف نیوز پیپرس کے تعاون سے کیا گیا تھا۔ انہوں نے کہا کہ وہ نہیں جانتے کہ فی الحال کوئی ایسا ادارہ موجود ہے

یا نہیں جو اس معاملے کا جائزہ لیتا ہو، لیکن خطروں کا سامنا کرنے کے بعد ہم پتہ چلا سکتے ہیں کہ ان یکسوئی کیلئے کونسے رد عمل کے نظام کا قیام ضروری ہے۔ سریش پربھو نے کہا کہ مختلف یونیورسٹیوں، خانگی اور دیگر شعبوں میں کئی لوگ برسرکار ہوں گے جو دفاعی خطروں کا تخمینہ کر رہے ہوں گے جو ہندوستان کو آئندہ چند برسوں میں درپیش ہوسکتے ہیں۔ مرکزی وزیر نے کہا کہ حالانکہ خارجہ اور دفاعی پالیسی مرکز کے دائرۂ کار میں شامل ہیں لیکن ان مسائل سے اور موجودہ صورتحال سے نمٹنے کیلئے تمام ریاستوں کی عظیم ترین شمولیت ضروری ہے۔ یہ شمولیت روزانہ کی بنیاد پر ہونی چاہئے ۔ انہوں نے کہا کہ ہمیں یہ حقیقت فراموش نہیں کرنی چاہئے کہ ریاستیں بہت زیادہ اہم ہیں کیونکہ وہ صورتحال سے روز مرہ کی بنیاد پر نمٹتی ہیں۔