ممبئی ۔ 13 ۔ دسمبر : ( سیاست ڈاٹ کام) : تبدیلی مذہب یا گھر واپسی جیسے اپنے متنازعہ مسئلہ کے ساتھ وی ایچ پی نے اس ایجنڈہ کو زبردست تقویت دینے کے لیے کل اتوار کو ممبئی میں اپنا ’وراٹ ہندو سمیلن ‘ منعقد کرنے کا فیصلہ کیا ہے ۔ یہ سمیلن 1964 میں ممبئی میں اس تنظیم کے قیام کے 50 سال کی یاد میں منایا جارہا ہے ۔ اس سمیلن میں گورکھپور کے بی جے پی ایم پی یوگی ادتیہ ناتھ آر ایس ایس کے جوائنٹ سکریٹری دتاتریہ ہوشیلے ، وی ایچ پی قائدین اشوک سنگھل اور پروین توگاڑیہ شرکت کررہے ہیں ۔ وی ایچ پی کو توقع ہے سمیلن میں ایک لاکھ سے زائد افراد شرکت کریں گے ۔ اس ہندو سمیلن کو آر ایس ایس کی مکمل سرپرستی حاصل ہے ۔ وی ایچ پی نے اس سمیلن میں رام مندر کی تعمیر ، لو جہاد اور گاؤکشی جیسے مسائل پر غور کرنے کا فیصلہ کیا ہے ۔
اس کے علاوہ مسلمانوں اور عیسائیوں کو بڑے پیمانہ پر ہندو بنانے کے پروگراموں کو قطعیت دی جائے گی ۔ مرکز میں بی جے پی کے اقتدار پر آنے کے بعد ہندو دائیں بازو کی تنظیم نے اپنے عزائم کو بلند کرتے ہوئے کہا ہے کہ مساجد سے اذان کی آواز کی وجہ سے صوتی آلودگی پیدا ہورہی ہے ۔ لہذا اذان پر فوری پابندی عائد کی جانی چاہئے ۔ وی ایچ پی نے مہاراشٹرا کی دیویندر فرنویس حکومت پر بھی زور دیا ہے کہ وہ مہاراشٹرا بھر میں مساجد میں اذان کے لیے لاوڈ اسپیکرس کے استعمال پر پابندی عائد کرے ۔ اس تنظیم نے کہا کہ مساجد سے اذان کی آواز ماحول کو مکدر کرتی ہے اس سے صوتی آلودگی پیدا ہوتی ہے ۔ لہذا اس پر فوری پابندی عائد کی جانی چاہئے وی ایچ پی نے اپنے سمیلن میں مہاراشٹرا کی چار بڑی مندروں سدی ونائک مندر ( ممبئی ) ، سائی بابا مندر ( شرڈی ) ، وٹھل مندر ( ہندو پور ) اور تلجا بھوری مندر کو ہندو ٹرسٹیز کے حوالے کرنے کا مطالبہ کیا ۔۔