مسئلہ کشمیر کو بین الاقوامی بنانے پاکستان کی کوشش جاری

اسلام آباد۔19اکٹوبر ( سیاست ڈاٹ کام) مسئلہ کشمیر کو بین الاقوامی بنانے کی پاکستانی کوششیں جاری ہیں ۔ چنانچہ وزیراعظم پاکستان کے مشیر برائے قومی سلامتی و خارجہ اُمور سرتاج عزیز نے آج معتمد عمومی اقوام متحدہ بانکی مون سے اس مسئلہ پر بات چیت کرتے ہوئے عالمی ادارہ سے اس بحران کی صورتحال میں اپنی ساکھ برقرار رکھنے کیلئے مداخلت کرنے کی خواہش کی ۔انہوں نے کل رات بانکی مون کو ٹیلی فون کیا اور ہندوستان سے متصل بین الاقوامی سرحد اور خطہ قبضہ پر موجودہ صورتحال پر تفصیل سے تبادلہ خیال کیا ۔انہوں نے کہا کہ اقوام متحدہ کی مداخلت بحران کے حالات سے نمٹنے کے بارے میں اس کی ساکھ میں اضافہ کردے گا ۔ انہوں نے کہا کہ اقوام متحدہ کو ایک فریق کے عدم تعاون پر بھی غور کرناچاہیئے ۔ بانکی مون سے ٹیلی فون پر بات چیت پاکستان کی جانب سے مسئلہ کشمیر کو بین الاقوامی رنگ دینے کی کوشش کا ایک حصہ ہے ۔

11اکٹوبر کو سرتاج عزیز نے بانکی مون کو ایک مکتوب روانہ کیا تھا جو خطہ قبضہ اور بین الاقوامی سرحد پر موجودہ صورتحال کے بارے میں تھا اور عالمی ادارے سے خواہش کی تھی کہ مسئلہ کی یکسوئی کیلئے دخل انداز کی جائے تاہم اقوام متحدہ نے پاکستان کی مسئلہ کشمیر میں مداخلت کرنے کی خواہش کو نظرانداز کرتے ہوئے کہا تھا کہ ہندوستان اور پاکستان کو اپنے اختلافات بات چیت کے ذریعہ دور کرلینے چاہیئے اور اس دیرینہ مسئلہ کی یکسوئی بھی کرنی چاہیئے ۔کل رات کی بات چیت میں سرتاج عزیز نے امن کی عاجلانہ بحالی اور خطہ قبضہ و بین الاقوامی سرحد پر خیرسگالی صورتحال پیدا کرنے کی ضرورت پر زور دیا ۔انہوں نے کہا کہ پاکستان پوری طرح متحد ہے اور پکّا ارادہ کئے ہوئے ہے کہ کسی بھی جارحانہ کارروائی کی صورت میں ہندوستان کی اشتعال انگیزی کا بھرپور جواب دیا جائے گا ‘ تاہم مکمل صبر و تحمل اور احساس ذمہ داری کے ساتھ جوابی کارروائی کی جائے گی ۔انہوں نے کہا کہ ہندوستان کو ایک بالغ نظر اور واجبی رویہ اختیار کرنے کا مشورہ دیا جائے

اور کہا جائے کہ من مانی طور پر فوجی کارروائی کرنے سے باز رہے ۔ اقوام متحدہ کے سربراہ نے خطہ قبضہ پر تشدد میں اضافہ پر اظہار تشویش کرتے ہوئے انسانی جانوں کے زیاں کی مذمت کی ۔انہوں نے پُرزور انداز میں کہا کہ دونوں فریقین کو ضروری اقدامات کرنے چاہیئے اور بات چیت کے ذریعہ کشیدگی دور کرنا چاہیئے ۔ سرتاج عزیز نے کہا کہ اس علاقہ میں پائیدار امن کے مفاد میں ہمیں پیشرفت کا راستہ تلاش کرنا چاہیئے اور تمام دیرینہ مسائل بشمول بنیادی مسئلہ جموں و کشمیر کی یکسوئی کرنی چاہیئے ۔ اس میں اقوام متحدہ کو خود مستقل ذمہ داری قبول کرتے ہوئے اپنی قراردادوں پر عمل کروانا چاہیئے جن میں جموں و کشمیر کی عوام کے حق خود اختیاری کی تائید کا عہد کیا گیا ہے ۔ سرتاج عزیز نے کہا کہ تنازعات کی منفی انداز میں یکسوئی اقوام متحدہ کے منشور کے بنیادی اصول کے خلاف ہے ۔