نئی دہلی 18 ڈسمبر ( سیاست ڈاٹ کام ) راجیہ سبھا میں آج چوتھے دن بھی ہنگامہ آرائی اور تعطل کا سلسلہ جاری رہا جبکہ اپوزیشن جماعتوں نے اپنے مطالبہ کو برقرار رکھا کہ وزیر اعظم نریندر مودی ‘ تبدیلی مذہب کے مسئلہ پر ہوئے مباحث پر جواب دیں۔ حکومت نے تاہم اپوزیشن کے اس مطالبہ کو یکسر مسترد کردیا ہے ۔ حالانکہ وقفہ سوالات کے دوران وزیر اعظم مودی ایوان میں موجود تھے لیکن اپوزیشن اور برسر اقتدار جماعتوں کے ارکان کے مابین ملک میں فرقہ وارانہ نوعیت کے واقعات پر مباحث کے طریقہ کار پر بحث ہوتی رہی اور کوئی دوسری کارروائی نہیں ہوسکی ۔ جمعرات کو راجیہ سبھا میں ایسے محکمہ جات سے متعلق سوالات کئے جاتے ہیں جن کے قلمدان وزیراعظم کے پاس ہیں ۔ اپوزیشن ارکان کی جانب سے مسلسل نریندر مودی سے بیان کے مطالبہ پر ایوان کی کارروائی بارہا ملتوی ہوتی رہی ایسے میں قائد ایوان و وزیر فینانس ارون جیٹلی نے کہا کہ حکومت اس مسئلہ پر فوری مباحث کیلئے تیار ہے لیکن انہوں نے یہ واضح کردیا کہ اپوزیشن جماعتیں یہ مطالبہ ہرگز نہیں کرسکتیں کہ ان مباحث کا جواب کسے دینا چاہئے ۔
علاوہ ازیں اپوزیشن یہ بھی نہیں کہہ سکتیں کہ مباحث کا طریقہ کار کیا ہو۔ ارون جیٹلی نے کہا کہ اسی ایوان میں وزیر اعظم نے اپوزیشن کی درخواست پر بیان دیا تھا ۔ وزیر اعظم کے بیان کے بعد بھی تین دن سے ایوان کی کارروائی چلنے نہیں دی جا رہی ہے ۔ وہ حکومت کی پیشکش کا اعادہ کرتے ہیں کہ اگر اپوزیشن چاہے تو اس مسئلہ پر مباحث کو فوری شروع کیا جاسکتا ہے ۔ وزیر اعظم کی جانب سے کسی جواب کا امکان مسترد کرتے ہوئے وزیر پارلیمانی امور وینکیا نائیڈو نے کہا کہ قوانین کے مطابق وزیر داخلہ مباحث کے بعد جواب دینگے کیونکہ یہ مسائل وزارت داخلہ سے تعلق رکھتے ہیں۔ تاہم تقریباً تمام اپوزیشن جماعتوں کا یہ اصرار تھا کہ وزیر اعظم ہی مباحث کا جواب دیں۔ سی پی ایم کے رکن سیتارام یچوری نے کہا کہ وزیر اعظم کو جواب دینا چاہئے اور انہیں کانگریس کے ارکان کی تائید حاصل ہوئی ۔ جنتادل یو کے شرد یادو نے کہا کہ چونکہ وزیر اعظم ایوان میں موجود ہیں انہیں ارکان کے خیالات کی سماعت کرنے کے بعد جواب دینا چاہئے کیونکہ اس مسئلہ پر پارلیمنٹ کے اندر اور باہر دونوں جگہ بے چینی ہے ۔ کانگریس کے ڈپٹی لیڈر آنند شرما نے کہا کہ اپوزیشن جماعتیں تعطل ختم کرنے سنجیدہ ہیں ۔ وزیر اعظم اچھے مقرر ہیں اور انہیں جواب دینا چاہئے ۔ جب اپوزیشن ارکان یہ کہتے رہے کہ جبری تبدیلی مذہب کے نتیجہ میں سنگین مسائل پیدا ہوئے ہیں وینکیا نائیڈو نے کہا کہ ملک میں خاموشی اور امن ہے لیکن کچھ افراد یہ مسئلہ اٹھاتے ہوئے ہنگامہ کرنا چاہتے ہیں۔
بی ایس پی لیڈر مایاوتی نے کہا کہ وزیر اعظم کو اپوزیشن کے مطالبہ کے مطابق جواب دینا چاہئے اور حکومت کو اسے وقار کا مسئلہ نہیں بنانا چاہئے ۔ تبدیلی مذہب کے مسئلہ پر وینکیا نائیڈو نے کہا کہ لا اینڈ آرڈر ریاستی حکومت کا مسئلہ ہے اور انہیں ان افراد کے خلاف کارروائی کرنی چاہئے جنہوں نے قوانین کی خلاف ورزی کی ہے ۔ اپوزیشن جماعتوں اور برسراقتدار جماعتوں کے ارکان کے مابین بحث و تکرار کے دوران صدر نشین حامد انصاری نے لنچ کیلئے کارروائی کو ملتوی کردیا تھا ۔ انہوں نے واضح کیا کہ مباحث شروع کرنے پر کسی طرح کا اتفاق رائے نہیں ہے ۔ اپوزیشن ارکان نے قبل ازیں مطالبہ کیا تھا کہ آج کے کام کاج کو معطل کرتے ہوئے مباحث شروع کئے جائیں لیکن حامد انصاری نے اس کو مسترد کردیا اور کہا کہ مناسب نوٹس دی جانی چاہئے ۔ اپوزیشن کے مسلسل مطالبہ پر حکومت نے شدید اعتراض کیا یہ جماعتیں اپنے ارکان کی تعداد کے بل بوتے پر ہٹ دھرمی اختیار کر رہی ہیں۔ راجیہ سبھا میں این ڈی اے اقلیت میں ہے ۔ کانگریس کے لیڈر آنند شرما نے الزام عائد کیا کہ حکومت کا رویہ ہٹ دھرمی والا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ اپوزیشن جماعتیں چاہتی ہیں کہ ایوان میں کام کاج ہو سکے اور حالات بحال ہوں لیکن اس کیلئے وزیر اعظم کو ایوان میں جواب دینا چاہئے ۔ ارون جیٹلی نے کہا کہ ایک مرکزی وزیر کے ریمارک پر وزیر اعظم نے ایوان میں قبل ازیں جو بیان دیا ہے اس کو بہتر انداز میں سمجھنے کی ضرورت ہے ۔