مرکز کی میدک میں سی آئی پی ای ٹی کے قیام کیلئے سرمایہ کاری

20 ایکڑ اراضی کی خریدی ، مرکزی وزیر اننت کمار کا بیان

حیدرآباد ۔ 10 ۔ اگست : ( ایجنسیز ) : مرکزی حکومت نے کہا ہے کہ ضلع میدک میں ملک سے سب سے اعلی تعلیمی ادارے سنٹرل انسٹی ٹیوٹ آف پلاسٹکس انجینئرنگ اینڈ ٹکنالوجی ( سی آئی پی ای ٹی ) کیمپس کے لیے پچاس کروڑ روپئے کی سرمایہ کاری کی جائے گی ۔ اننت کمار مرکزی وزیر برائے کیمیکلس و فرٹیلائزرس نے بتایا کہ تقریبا 20 ایکڑ اراضی پر یہ سہولت فراہم کی جائے گی ۔ جب کہ آئندہ چند سالوں میں ادارے میں زائد از پانچ ہزار طلبہ کو تربیت دی جائے گی ۔ انہوں نے حیدرآباد کو بنیادی سی آئی پی ای ٹی لرننگ سنٹر بتاتے ہوئے کہا کہ موجودہ طور پر یہاں 2 ہزار سات سو پچاس طلبہ تربیت حاصل کرچکے ہیں ۔ انہوں نے بتایا کہ ملک کے دیگر پانچ شہروں احمد آباد ، بھوبنیشور ، چینائی ، لکھنو اور کوچی میں سی آئی پی ای ٹی سہولت دستیاب ہے ۔ انہوں نے کہا کہ 20 ایکڑ اراضی کی خریداری کا عمل جاری ہے ۔ یہاں پانچویں انٹرنیشنل پلاسٹک ایگزیبیشن کے دوران عوام سے خطاب کرتے ہوئے مرکزی وزیر نے کہا کہ ان کی وزارت تلنگانہ میں پلاسٹک پارک کے قیام کے لیے منصوبہ بندی کمیشن کو تجاویز پیش کرے گی ۔ یاد رہے سابقہ یو پی اے حکومت نے ریاست مدھیہ پردیش ، ٹامل ناڈو ، اوڈیشہ اور آسام میں پلاسٹک پارکس کے قیام کو منظوری دی تھی ۔ انہوں نے بتایا کہ حیدرآباد کے اطراف و اکناف میں زائد از چھ ہزار پلاسٹک کمپنیاں واقع ہیں جن سے مجموعی طور پر 2 ہزار پانچ سو کروڑ کی تجارت انجام پاتی ہے ۔ جب کہ تلنگانہ میں ایک پلاسٹک پارک کی ضرورت ہے ۔ بتایا گیا کہ ہندوستان میں گذشتہ سال تقریبا 11.7 ملین ٹن پلاسٹک کا استعمال کیا گیا ہے اور یہ سال 2020 تک 20 ملین ٹن متوقع ہے ۔ پلاسٹک کے استعمال میں اضافہ درج ہونے کی بات بتاتے ہوئے مرکزی وزیر نے کہا کہ پلاسٹک صنعت کی یہ سماجی ذمہ داری ہے کہ وہ بیکار پلاسٹک کی کھپت کے اقدامات کریں ۔ انہوں نے کہا کہ مرکزی حکومت اس سلسلہ میں ایک قومی مہم کا آغاز کررہی ہے اور بیکار پلاسٹک کو کام میں لانے کے لیے پانچ سو شہروں میں پلانٹس قائم کئے جائیں گے ۔۔