مودی کابینہ میں ٹی آر ایس کو جگہ دینے چیف منسٹر بھی خاموش: پونم پربھاکر
حیدرآباد /3 مارچ (سیاست نیوز) کانگریس کے سابق رکن پارلیمنٹ پونم پربھاکر نے مرکز کے عام بجٹ کو تلنگانہ کے لئے مایوس کن قرار دیا۔ آج پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے انھوں نے کہا کہ تقسیم ریاست بل میں کانگریس زیر قیادت یو پی اے حکومت نے تلنگانہ کے لئے کئی سہولتیں اور رعایتیں فراہم کی تھیں، جن کو پورا کرنے میں مودی حکومت ناکام ہو گئی۔ انھوں نے کہا کہ ریاست کے مفاد کے لئے چیف منسٹر تلنگانہ کو ردعمل ظاہر کرتے ہوئے اپنی ناراضگی کا مکتوب وزیر اعظم کو روانہ کرنا چاہئے تھا یا شخصی طورپر دہلی پہنچ کر تلنگانہ کے ساتھ ہونے والی ناانصافی کو پیش کرنا تھا، تاہم وہ خاموشی اختیار کرکے اس ناانصافی کا تماشہ دیکھ رہے ہیں۔ پونم پربھاکر نے کہا کہ چیف منسٹر ٹی آر ایس کو مرکزی کابینہ میں شامل کرنے بالخصوص اپنی دختر کویتا کو مرکزی وزیر بنانے کے لئے مصلحتاً خاموش ہیں۔ انھوں نے کہا کہ ہائیکورٹ کی تقسیم کے مسئلہ پر وکلاء احتجاج اور عدالتوں کا بائیکاٹ کر رہے ہیں، مگر کے چندر شیکھر راؤ نے اب تک کوئی ردعمل ظاہر نہیں کیا، جب کہ انھیں چاہئے کہ بات چیت کے ذریعہ ہائیکورٹ کی تقسیم کو یقینی بنائیں۔ انھوں نے کہا کہ کئی معاملوں میں بی جے پی تلنگانہ کے ساتھ ناانصافی کر رہی ہے۔ انھوں نے تلنگانہ کے ساتھ ہونے والی ناانصافی پر خاموشی اختیار کرنے والی ٹی آر ایس کے امیدواروں کو گریجویٹ کوٹہ کے کونسل انتخابات میں شکست دینے عوام سے اپیل کی اور وکلاء کو سکریٹریٹ کے علاوہ ٹی آر ایس اور بی جے پی دفاتر کے گھیراؤ کا مشورہ دیا۔ انھوں نے اتم کمار ریڈی کو صدر تلنگانہ پردیش کانگریس نامزد کرنے کا خیرمقدم کیا۔