مرکز پر آندھراپردیش کے ساتھ بدترین ناانصافی کا الزام

خصوصی درجہ دینے اور تمام وعدوں کی تکمیل کا مطالبہ ‘ نیتی آیوگ سے چندرابابونائیڈو کا خطاب

نئی دہلی ۔ 17 جون ( ایس ایس ایس ) آندھراپردیش کے چیف منسٹر این چندرابابونائیڈو نے نیتی آیوگ کے اجلاس میں پرزور انداز میں اپنے نکات پیش کرتے ہوئے مرکز پر ریاست آندھراپردیش کے ساتھ بدترین ناانصافی کرنے کا الزام عائد کیا ۔ مرکز میں بی جے پی کے زیر قیادت برسراقتدار این ڈی اے سے تلگودیشم کی علحدگی کے بعدوزیراعظم نریندرمودی سے چندرابابونائیڈو کا آج پہلی مرتبہ آمنا سامنا ہوا ۔ اس موقع پر انہوں نے جارحانہ تیور کرتے ہوئے اپنی ریاست آندھراپردیش کو خصوصی موقف دینے سے مرکز کے انکار کے بشمول متعدد مسائل کو اٹھایا ۔ نائیڈو نے مرکز سے مطالبہ کیا کہ آندھراپردیش نتظیم جدید قانون میں کئے گئے اپنے تمام وعدوں کی تکمیل کرے ۔ اس وعدہ میں ریاست کی آمدنی میں ہونے والی بھاری کمی کی پابجائی‘ پولاورم پراجکٹ کی تکمیل ‘ پراجکٹ کے لئے حصول اراضی ‘ اس سے بے گھر ہونے والوں کی بازآبادکاری کے لئے خاطر خواہ فنڈس کی فراہمی کے علاوہ تقسیم شدہ ریاست کے نئے صدر مقام امراوتی کی تعمیر کے لئے فنڈس کی فراہمی بھی شامل ہے ۔ چندرابابونائیڈو نے اپنے مطالبات کی طویل فہرست بیان کرتے ہوئے کہا کہ ریاست آندھراپردیش اپنے بل بوتے پر ترقی کے راستہ پر گامزن ہے ۔ جی ایس ٹی اور نوٹ بندی کے فیصلوں سے ریاست کے مفادات بری طرح متاثر ہوئے ہیں ۔ نوٹ بندی کے سبب کرنسی کی شدید قلت پیدا ہوگئی ۔ نوٹ بندی کے بعد پیدا ہونے والے مسائل کو حل کرنے میں مرکز ناکام ہوگیا ہے ۔ اس اجلاس میں ہر ایک ریاست کے چیف منسٹر کو خطاب کیلئے 7 منٹ دیئے گئے تھے لیکن چندرابابونائیڈو نے 20 تک خطاب جاری رکھا ۔ ایک مرحلے پر وزیر داخلہ راج ناتھ سنگھ نے ان سے کہا کہ اپنی تقریر مکمل کریں کیونکہ دیا گیا وقت پہلے ہی پورا ہوچکاہے ۔ بہار کے چیف منسٹر نے آندھراپردیش کو خصوصی موقف دینے سے متعلق چندرابابونائیڈو کے مطالبہ کی تائید کی اور ان کی ریاست بہار کو خصوصی موقف دینے کا مطالبہ کیا ۔ ممتابنرجی نے بھی نائیڈو کے مطالبہ کی حمایت کی۔