مرکزی و ریاستی حکومت کا عدالتی احکام سے کھلواڑ

الور (راجستھان) 23 جولائی (سیاست ڈاٹ کام) راجستھان کے ضلع الور میں ہوئے ہجومی تشدد نے ایک نیا سنسنی خیز موڑ لیا جس میں عینی شاہدین نے پولیس کے مشتبہ کردار کا الزام لگایا۔ عینی شاہدین میں سے ایک نے اے این آئی کو بتایا کہ پولیس نے اُسے اس کے گھر کے پاس ہی روک دیا اور خوب مارا پیٹا اور متاثر کو گالی گلوج کی۔ اس عینی شاہد نے یہ الزام بھی لگایا کہ پولیس نے متاثرہ شخص زخمی کو ہاسپٹل لے جانے میں تاخیر کی۔ جبکہ الور کے ایس پی راجندرا سنگھ نے اس کی تردید کرتے ہوئے کہاکہ تحقیقات کے مکمل ہونے تک کچھ بھی نہیں کہا جاسکتا۔ تاہم انھوں نے تیقن دیا کہ خاطیوں کو کیفر کردار تک پہنچایا جائے گا۔ پولیس اس کیس کو بھرپور طریقہ سے تحقیقات کررہی ہے۔ واضح رہے کہ 28 سالہ اکبر خان مع اپنے ساتھی کے چند گایوں کو لے کر قریبی جنگل للاوندی جارہا تھا کہ مقامی افراد نے اسے گایوں کا اسمگلر کا شبہ کرتے ہوئے مارا پیٹا یہاں تک کہ دواخانہ کے راستہ میں اُس نے اپنی جان آفریں کے سپرد کردی۔ دواخانہ پہنچنے پر ڈاکٹرس نے اکبر خان کو مردہ حالت میں دواخانہ میں آمد کی توثیق کی۔