حیدرآباد 18 فروری (سیاست نیوز) پارلیمنٹ میں تلنگانہ بِل کی منظوری پر بطور احتجاج مرکزی وزیر پورندیشوری کے علاوہ تین ریاستی وزراء اور دو کانگریس ارکان اسمبلی نے استعفیٰ دے دیا۔ مرکزی وزیر پورندیشوری نے صدر کانگریس سونیا گاندھی کو مکتوب روانہ کرتے ہوئے کہاکہ وہ وزارت اور کانگریس کی رکنیت سے مستعفی ہورہی ہیں۔ اِن کے علاوہ تین ریاستی وزراء جی سرینواس راؤ، پارتھا سارتھی اور ای پرتاب ریڈی نے بھی وزارت اور پارٹی رکنیت سے استعفیٰ دے دیا۔ کانگریس کے دو ارکان اسمبلی مسٹر ٹی تری مرتیلو اور یو رام مورتی راجو (کنا بابو) نے بھی استعفیٰ دے دیا۔
ریاستی وزیر سماجی بہبود مسٹر پی ستیہ نارائنا نے کہاکہ چیف منسٹر کرن کمار ریڈی کل مستعفی ہونے کا فیصلہ کرچکے ہیں اور امکان ہے کہ 25 ارکان اسمبلی کے ساتھ وہ استعفیٰ دے دیں گے۔ اِس دوران باوثوق ذرائع سے پتہ چلا ہے کہ سیما آندھرا کی نمائندگی کرنے والے کانگریس قائدین عملاً دو گروپس میں تقسیم ہوگئے ہیں۔ اب تک چیف منسٹر کرن کمار ریڈی کی حمایت کرنے والے اب اپنے فیصلہ پر ازسرنو غور کررہے ہیں۔ بتایا جاتا ہے کہ صدر پردیش کانگریس کے علاوہ 7 وزراء مستعفی ہوکر نئی پارٹی تشکیل دینے کے خلاف ہیں۔ کانگریس کے برطرف رکن پارلیمنٹ لگڑاپاٹی راج گوپال جنھیں ایوان پارلیمنٹ میں کالی مرچ اسپرے پر ہر گوشے سے تنقیدوں کا سامنا کرنا پڑا، آج پارلیمنٹ کی رکنیت سے استعفیٰ دے دیا اور سیاسی سنیاس لینے کا اعلان کیا۔
اُنھوں نے میڈیا سے بات چیت کرتے ہوئے کہاکہ ریاست کو تقسیم سے روکنے میں وہ ناکام رہے اِس لئے سرگرم سیاست سے کنارہ کشی اختیار کررہے ہیں۔ لگڑاپاٹی راج گوپال نے لوک سبھا میں تلنگانہ بِل منظور ہوتے ہی اپنا استعفیٰ روانہ کردیا۔ اسپیکر لوک سبھا میراکمار سے ملاقات کے لئے وہ اُن کی قیامگاہ بھی گئے لیکن اُنھوں نے کل صبح ملاقات کا وقت دیا ہے ۔ نئی سیاسی جماعت کی تشکیل کے بارے میں پوچھے جانے پر اُنھوں نے کہاکہ سیاسی کنارہ کشی کے بعد ایسا کوئی امکان نہیں ہے۔