نئی دہلی ۔ 8 مئی (سیاست ڈاٹ کام) راجیہ سبھا کی کارروائی آج مفلوج ہوگئی۔ جب اپوزیشن کانگریس نے مرکزی وزیر نتن گڈکری سے استعفیٰ کا مطالبہ کرتے ہوئے رکاوٹ پیدا کردی کیونکہ کاگ کی رپورٹ میں یہ الزام عائد کیا گیا ہیکہ نتن گڈکری کے افراد خاندان سے متعلق یواتی گروپ کو قرضوں کی منظوری میں دھاندلیاں کی گئی ہیں۔ اپوزیشن کی ہنگامہ آرائی اور شوروغل کے باعث ایوان کی کارروائی آج 6 مرتبہ ملتوی کرنی پڑی جبکہ کانگریس ارکان مسلسل نعرے بلند کرتے ہوئے ایوان کے وسط میں احتجاج کرنے لگے۔ ایک مرحلہ میں کانگریس اور حکمران بی جے پی ارکان کے درمیان سخت الفاظ کا تبادلہ عمل میں آیا، جنہوں نے کرپشن کے مسئلہ پر کانگریس کے اخلاق حق پر سوال اٹھانے کانگریس نے یہ اصرار کیا کہ نتن گڈکری استعفیٰ دیتے ہوئے پارلیمنٹ میں جواب دیں۔ بی جے پی نے بھی جواب میں ’’چور مچائے شور‘‘ کی آواز بلند کی اپوزیشن لیڈر غلام نبی آزاد نے کہا کہ یہ کسی رکن پارلیمنٹ یا وزیر کے خلاف شخصی الزام نہیں ہے کہ کمپٹولر اکاونٹ جنرل (CAG) کی رپورٹ ہے۔ انہوں نے یہ نشاندہی کہ بی جے پی ایوان کے باہر کرپشن اور شفافیت پر بات کرتی ہے اور کرپشن کے مسئلہ پر پیشرو یو پی اے حکومت کو تنقید کا نشانہ بناتی ہے لیکن نتن گڈکری کے خلاف دوبارہ بے قاعدگیوں کا معاملہ سامنے آیا ہے جس پر انہوں نے بحیثیت صدر بی جے پی استعفیٰ دیا۔
کانگریس لیڈر نے کہا کہ کاگ کی رپورٹ میں کمپنی کے خلاف الزامات عائد کئے گئے لہٰذا نتن گڈکری وزارتی عہدہ پر برقرار نہیں رہ سکتے۔ دریں اثناء کانگریس کے ڈپٹی لیڈر آنند شرما نے یاد دہانی کی کہ بی جے پی سال 2012ء میں کاگ کی رپورٹ کا افشاء ہونے پر 23 دن تک پارلیمنٹ کی کارروائی مفلوج کردی تھی۔ اس رپورٹ میں 2G اسپکٹرم الاٹمنٹ کا حوالہ دیا گیا تھا اور اس وقت کے وزیر ٹیلی کام اے راجہ کو نشانہ بنایا گیا تھا۔ انہوں نے کہا کہ ہم قواعد اور جمہوریت کا احترام کرتے ہیں لیکن تمہاری حکومت خاطر میں نہیں لائی۔ آج ایوان کی کارروائی مفلوج کردینے پر تنقیدوں کا جواب دیئے آنند شرما نے بتایا کہ جب 2012ء میں بی جے پی اپوزیشن میں تھی اس وقت CAG کی رپورٹ پر 23 ایوان کی کارروائی درہم برہم کردی گئی تھی۔ کانگریس لیڈر نے طنزیہ انداز میں وزیراعظم نریندر مودی نے تو کرپشن کو ہرگز برداشت نہ کرنے کا اعلان کیا ہے لیکن اب مرکزی وزیر نتن گڈکری کے خلاف الزامات خاموش کیوں ہیں۔ انہوں نے کرپشن مسئلہ کے دہرا رویہ اختیار کرنے کا الزام عائد کیا، جس پر وزیرپارلیمانی امور مختار عباس نقوی نے کہا کہ ایسا معلوم ہوتا ہیکہ کانگریس کو کرپشن سے پیار ہوگیا ہے جس کے باعث وہ ہمیشہ یہ مسئلہ اٹھاتی ہے۔