نئی دہلی 3 مارچ (سیاست ڈاٹ کام) مرکزی حکومت کے محکموں اور مرکزی مسلح افواج میں اقلیتوں کی ملازمتوں کا تناسب آبادی میں اُن کے حصہ سے بہت کم ہے۔ اِس کی بنیادی وجہ خواندگی کی کم سطح اور ضروری معلومات کا فقدان ہے۔ حکومت نے آج راجیہ سبھا میں اِس کا انکشاف کیا۔ وزیر مملکت برائے اقلیتی بہبود مختار عباس نقوی نے اپنے تحریری جواب میں یہ بھی کہاکہ ضروری رہنمایانہ خطوط جاری کردیئے گئے ہیں تاکہ اِس بات کو یقینی بنایا جاسکے کہ تقررات کے دوران اقلیتوں کے خلاف کوئی امکانی تعصب نہ ہونے پائے۔ آسام رائفلز میں اقلیتوں کا تناسب سب سے زیادہ یعنی جملہ تعداد کا 16.6 فیصد ہے۔ اِس کے بعد بارڈر سکیورٹی فورس (بی ایس ایف) میں اِن کا تناسب 11.69 ، سنٹرل ریزرو پولیس فورس (سی آر پی ایف) میں 9.24 فیصد ، سی آئی ایس ایف (سنٹرل انڈسٹریل سکیورٹی فورس) 9.14 ، سیما سشستر بل (ایس ایس بی) میں 7.02 فیصد اور انڈو تبتن بارڈر فورس (آئی ٹی بی پی) میں 6.18 فیصد ہے۔ اقلیتوں کے تقررات میں مثبت کارروائیوں کے ذریعہ سہولت فراہم کی جاتی ہے۔ ضروری رہنمایانہ خطوط جاری کردیئے گئے ہیں تاکہ اِس بات کو یقینی بنایا جاسکے کہ کوئی امکانی تعصب تقررات کے دوران اقلیتوں کے خلاف نہ ہونے پائے۔ تاہم سرکاری ملازمتوں میں اقلیتوں کی کم نمائندگی اُن کی خواندگی کی کم سطح اور ضروری معلومات وغیرہ کے فقدان کا نتیجہ ہے۔ نقوی ایک سوال کا جواب دے رہے تھے جس میں ریاستی پولیس ؍ مرکزی پولیس اور دیگر پولیس تنظیموں میں اقلیتی افرادی قوت کی قلت کے بارے میں پوچھا گیا تھا۔
ایک علیحدہ سوال کے جواب میں اعداد و شمار پیش کرتے ہوئے ظاہر کیا گیا کہ تقررات کے دوران مرکزی وزارتوں، محکموں اور اداروں میں کم تناسب جو اُن کی آبادی کے متناسب نہیں ہے، لیکن اِس میں گزشتہ مالی سال 2013-14 ء کے دوران اضافہ ہوکر یہ 2012-13 ء کے 6.92 فیصد سے 8.53 فیصد ہوگیا ہے۔ 2011-12 ء میں یہ تناسب 6.24% تھا۔ 2010-11 ء میں یہ اعظم ترین 10.18 فیصد اور 2009-10 ء کے دوران 7.28 فیصد تھا۔ اعداد و شمار کے اعتبار سے گزشتہ پانچ سال کے دوران اقلیتوں کا تقرر 2010-11 ء میں سب سے زیادہ تھا۔ اُس وقت 35,692 افراد کا تقرر کیا گیا تھا۔ 2009-10 ء میں 10,595 کی تعداد تھی جو 2011-12 ء میں اضافہ ہوکر 18,379 ، 2012-13 ء میں 22,839 اور 2013-14 ء میں 24,783 ہوگئی۔ مختار عباس نقوی نے کہاکہ گزشتہ پانچ سال کے اعداد و شمار سے ظاہر ہوتا ہے کہ سالانہ تقررات جو مرکزی حکومت کے محکموں اور وزارتوں میں کئے گئے ہیں اُن کا تناسب آبادی میں تناسب سے کم ہے۔ اُنھوں نے کہاکہ بی او پی ٹی نے تمام تقررات کا اختیار رکھنے والے عہدیداروں کو ہدایات جاری کی ہیں کہ اقلیتوں پر تقررات کے دوران خصوصی غور کیا جائے۔ یہ ہدایات بھی جاری کی گئی ہیں کہ تمام تقرر کرنے والے عہدیدار رہنمایانہ خطوط پر سختی سے عمل آوری کریں۔