وینکیا نائیڈو کے بیان کی مذمت، قومی رکن سی پی آئی ڈاکٹر کے نارائنا کا بیان
حیدرآباد /17 دسمبر (سیاست نیوز) قومی رکن سی پی آئی ڈاکٹر کے نارائنا نے آر ایس ایس کے خفیہ ایجنڈے پر کام کرنے مرکزی حکومت پر الزام عائد کیا۔ انھوں نے کہا کہ بی جے پی، وشوا ہندو پریشد اور دیگر ہندوتوا تنظیمیں غیر ذمہ داری کا مظاہرہ کرتے ہوئے سیکولر ملک کے دستوری اقدار کو پامال کر رہی ہیں اور آر ایس ایس کے خفیہ ایجنڈا کے تحت ملک کو ہندو راشٹرا میں تبدیل کرنا چاہتی ہیں، جس کی سی پی آئی سخت مذمت کرتی ہے۔ انھوں نے کہا کہ تعلیم، صحت اور معاشی محکموں میں آر ایس ایس ذہنیت کے لوگوں کو شامل کرکے ملک کے جمہوری ڈھانچے کو زعفرانی رنگ میں رنگنے اور تبدیلی مذہب کو فروغ دے کر ملک میں نفرت اور ہیجان جیسی کیفیت پیدا کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے، جس کے لئے سرکاری مشنری کی خدمات سے استفادہ کیا جا رہا ہے۔ انھوں نے کہا کہ مرکزی وزیر وینکیا نائیڈو کا آر ایس ایس سے تعلق ہونے پر فخر کا اظہار اس بات کا ثبوت ہے کہ حکومت، آر ایس ایس کے خفیہ ایجنڈے پر کام کر رہی ہے۔ علاوہ ازیں کارپوریٹ اداروں کے اشاروں پر ناچتے ہوئے ملک میں خانگی شعبوں کو پروان چڑھانے میں غیر معمولی رول ادا کر رہی ہے۔ انھوں نے کہا کہ کوئلہ اسکامس کے واقعات منظر عام پر آنے کے بعد کانگریس پارٹی اندرونی بحران کا شکار ہو گئی ہے، جب کہ بی جے پی حکومت کانگریس زیر قیادت یو پی اے حکومت کے داغدار وزراء کو بچانا چاہتی ہے۔ ڈاکٹر نارائنا نے کہا کہ سیکولرازم، جمہوریت اور اقلیتوں کے تحفظ کے معاملے میں سی پی آئی اپنے اصولوں سے کوئی سمجھوتہ نہیں کرے گی۔ انھوں نے جمہوری اقدار، سیکولرازم اور اقلیتوں کے تحفظ کے لئے کمیونسٹ جماعتوں کو ایک پلیٹ فارم پر جمع ہوکر حکمت عملی تیار کرنے کا مشورہ دیا۔