مرکزی الیکشن کمیشن پر یکطرفہ فیصلہ کرنے کا الزام

عوامی جمہوریت کو مذاق بنانے پر خاموش نہیں بیٹھیں گے ، چندرا بابو نائیڈو کاالیکٹورل آفیسر کومکتوب
حیدرآباد ۔10 اپریل ( سیاست نیوز) قومی صدر تلگودیشم پارٹی و کارگذار چیف منسٹر آندھراپردیش مسٹر این چندرا بابو نائیڈو نے مرکزی الیکشن کمیشن پر یکطرفہ فیصلے کرنے کا الزام عائد کیا اور اس طرح کے فیصلوں سے گریز کرنے کی کمیشن سے خواہش کی ۔ انہوں نے سخت الفاظ میں کہاکہ اگر عوامی جمہوریت مذاق کا موضوع بنتے ہوئے دیکھ کر ہرگز خاموشی اختیار نہیں کی جائے گی ۔ چندرا بابو نائیڈو جنہوں نے آج مرکزی الیکشن کمیشن سے اختیار کردہ طرز عمل کے خلاف ریاستی چیف الیکٹورل آفیسر آندھراپردیش مسٹر دیویدی سے ریاستی سکریٹریٹ کے بلاک میں ملاقات کر کے اپنا ایک مکتوب حوالہ کیا اور ریاست کے حالات اور پیش آنے والے واقعات پر تفصیلی تبادلہ خیال کرتے ہوئے اپنا سخت احتجاج کروایا ۔ بعد ازاں اخباری نمائندوں سے بات چیت کرتے ہوئے صدر تلگودیشم پارٹی نے کہا کہ کسی چیف منسٹر کے ریاستی چیف الکٹورل آفیسر سے ملاقات کرنے کا پہلا تاریخی واقعہ ہے ۔ انہوں نے مرکزی الیکشن کمیشن کو ہدف ملامت بناتے ہوئے بتایا کہ ملک کی 22 اہم سیاسی جماعتوں نے کمیشن سے ملاقات کر کے الکٹرانک ووٹنگ مشینوں پر بھروسہ نہ رہنے کا اظہار کر کے بیالٹ پیپر کے طریقہ کار پر عمل کر کے انتخاباتمنعقد کروانے کی خواہش کی تھی اور یہاں تک کہ کم از کم 50فیصد وی وی پیاٹس سلپس کی گنتی کروانے کا مطالبہ کیا تھا اور اس پر بھی عمل آوری کی کوئی صورتحال دکھائی نہ دیئے جانے پر بحالت مجبوری سپریم کورٹ سے رجوع ہونا پڑا لیکن کمیشن نے سپریم کورٹ میں جھوٹ کا سہارا لیتے ہوئے اس بات سے واقف کروایا کہ وی وی پیاٹس سلپس کی گنتی کرنے کیلئے کم از کم چھ دن درکار ہوں گے ۔

اس طرح سپریم کورٹ کو بھی گمراہ کیا گیا جبکہ سابق میں جب بیالٹ پیپر کے ذریعہ انتخابات ہوا کرتے تھے تب رات تک تمام بیالٹ پیپروں کی گنتی مکمل ہوا کرتی تھی اور اس طرح رات تک ہی نتائج کا اعلان کردیا جاتا تھا ۔ چندرا بابو نائیڈو نے دریافت کیا کہ آیا سابق میں ایک دن کے دوران ہی نتائج کا اعلان کردیا جاتا تھا تو اب وی وی پیاٹس کی گنتی کیلئے چھ یوم کیوں اور کس طرح درکار ہوں گے ؟۔ انہوں نے مرکزی الیکشن کمیشن کو سخت تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے دریافت کیا کہ آیا وزیراعظم کو سیکورٹی فراہم کرنے والے آئی بی عہدیداروں کا تبادلہ کیوں نہیں کیا گیا ۔ علاوہ ازیں ریاست میں چند آئی پی ایس عہدیداروں کے اچانک تبادلوں کے پس پردہ بھی بعض سازشیں ہی کارفرما رہنے کا الزام عائد کیا ۔ چندرا بابو نائیڈو نے مرکزی الیکشن کمیشن کے اس طرز عمل پر اپنی شدید برہمی کا اظہار کرتے ہوئے وائی ایس آر کانگریس پارٹی قائدین کی شکایت پر اندرون 24 گھنٹے کارروائی کر کے عہدیداروں کے تبادلے کردیئے گئے جبکہ تلگودیشم کی جانب سے کی گئی متعدد شکایتوں پر کوئی کارروائی نہیں کی گئی ۔ انہوں نے کہا کہ مسٹر وجئے سائی ریڈی اور انیل یادو جیسے قائدین مرکزی الیکشن کمشنر سے بذریعہ فون کی گئیں شکایات کے ’’ آڈیو ٹپس ‘‘ ان کے ہاں موجود ہیں ۔ قومی صدر تلگودیشم پارٹی نے اس بات پر اپنے گہرے تاسف کا اظہار کیا کہ مرکزی الیکشن کمیشن کے جانبدارانہ رول اور یکطرفہ فیصلوں کے خلاف 65 سینئر ریٹائرڈ بیورو کریٹس بھی صدر جمہوریہ ہند کو شکایت کرنے پر مجبور ہوگئے ۔ نائیڈو جنہوں نے مرکزی الیکشن کمیشن کے طرز عمل کے خلاف احتجاجی دھرنا بھی منظم کیا اور کہا کہ کم از کم اس احتجاج کے ذریعہ مرکزی الیکشن کمیشن کے جانبدارانہ طرز عمل میں تبدیلی کی توقع کی جارہی ہے ۔ قومی صدر تلگودیشم پارٹی مسٹر این چندرا بابو نائیڈو نے مرکزی الیکشن کمیشن کے اختیار کردہ جانبدارانہ طرز عمل کی سخت مذمت کی اور اپنے طرز عمل کو تبدیل کرلینے کی پرزور خواہش کی ۔