مرغ کی قیمت میں غیرمعمولی اضافہ کا امکان

طلب میں اضافہ اور مرغیو ں کی قلت پر اقدام، ٹھوک تاجرین قیمت میں اضافہ پر مجبور

حیدرآباد۔13مئی (سیاست نیوز) شہر میں مرغ کی قیمت میں موسم گرما کے روایتی اضافہ کے ساتھ ساتھ جلد شروع ہونے جا رہے ماہ رمضان المبارک کے پیش نظر مزید اضافہ ریکارڈ کیا جانے لگا ہے اور کہا جا رہاہے کہ آئندہ دنوں میں مرغ کی قیمتو ںمیں مزید اضافہ ریکارڈ کیا جائے گا۔ حیدرآباد میں مرغ کے گوشت کی قیمت فی کیلو 213 روپئے تک پہنچ چکی ہے اور جو کہ اب تک موسم گرما میں پہنچنے والی قیمتو ںمیں سب سے زیادہ ہے ۔ پولٹری کے ٹھوک تاجرین کا کہنا ہے کہ مرغ کی قیمتوں کا گرما میں اضافہ ہونا معمول کی بات ہے لیکن اس مرتبہ جو صورتحال پیدا ہوئی ہے وہ سابق میں گرما کے دنو ںمیں نہیں ہوئی تھی۔ بتایاجاتاہے کہ موسم گرما کی شدت کے سبب مرغیوں کی ہلاکت میں ہونے والے اضافہ کے سبب بھی پولٹری کی قیمتو ںمیں اضافہ ریکارڈ کیا جا رہاہے۔ شہر میں شادیوں کے موسم اور تقاریب میں چکن کے استعمال اور طلب میں اضافہ کے سبب ہونے والے اس اضافہ پر کنٹرول کئے جانے کے لئے کوئی اقدامات نہیں کئے جا رہے ہیں لیکن یہ کہا جا رہاہے کہ 15فیصد پولٹری موسم گرما کی شدت کے سبب فوت ہورہی ہے جس کے نتیجہ میں پولٹری کسان خود مرغ کی قیمت میں اضافہ کر رہے ہیں جس کے سبب ٹھوک تاجرین کو بھی قیمتوں میں اضافہ کرنا پڑ رہا ہے اور اس کے اثرات چلر مارکٹ پر بھی مرتب ہو رہے ہیں۔ رمضان المبارک کے دوران عام طور پر چکن کی حلیم سب سے سستی حلیم تصور کی جاتی تھی لیکن اس مرتبہ چکن کی قیمتوں میں بے تحاشہ اضافہ کے سبب چکن کی حلیم کی تجارت کرنے والے بھی فکرمند ہوتے جا رہے ہیں اور کہا جا رہاہے کہ اس سال چکن کی حلیم کا کاروبار نہ صرف ماند رہے گا بلکہ چکن سے تیار کی جانے والی اشیاء کی بھی قیمتوں میں بھی اضافہ ریکارڈ کیا جائے گا ۔ چکن کی حلیم تیار کرنے والوں کا کہناہے کہ وہ اس سال حلیم کے کاروبار کو کرنے یا نہ کرنے کے سلسلہ میں فکرمند ہیں اور چکن کی قیمتوں میں اگر مزید اضافہ ہوتا ہے تو ایسی صورت میں کاروبار سے اجتناب کیا جائے گا کیونکہ اتنی بھاری قیمت میں چکن کا گوشت خرید تے ہوئے کاروبار کیا جانا انتہائی دشوار ہے۔ تاجرین کا کہناہے کہ ماہ رمضان المبارک کے دوران چکن کی طلب میں ہونے والے اضافہ کے پیش نظر بھی صورتحال قابو میں ہوتی نظر نہیں آرہی ہے۔