مراٹھا باشندوں کیلئے کوٹہ، سپریم کورٹ کا مداخلت سے انکار

نئی دہلی 18 ڈسمبر (سیاست ڈاٹ کام) سپریم کورٹ نے روزگار اور تعلیمی اداروں میں مراٹھا باشندوں کو 16 فیصد تحفظات فراہم کرنے حکومت مہاراشٹرا کے فیصلہ پر بامبے ہائیکورٹ نے ایک عبوری حکم جاری کیا تھا۔ اِس سلسلہ میں سپریم کورٹ نے مداخلت سے انکار کردیا ہے۔ چیف جسٹس ایچ ایل دتو کی زیرقیادت بنچ نے کہاکہ بامبے ہائیکورٹ کا فیصلہ صرف ایک عبوری حکم ہے۔ انھوں نے مہاراشٹرا حکومت کے بشمول مختلف پارٹیوں کی جانب سے اِس مسئلہ پر داخل کردہ درخواستوں کی سماعت کرنے سے انکار کردیا۔ قبل ازیں ہائیکورٹ نے سابق کانگریس ۔ این سی پی حکومت کے اِس متنازعہ فیصلہ کو روبہ عمل لانے پر حکم التواء جاری کیا تھا۔ مہاراشٹرا میں مراٹھا باشندوں کو سرکاری ملازمتوں اور تعلیمی اداروں میں 16 فیصد تحفظات دینے کا مطالبہ کیا تھا، جس پر ریاستی اسمبلی انتخابات سے قبل مراعات دینے حکومت کی پالیسی کی مخالفت کی گئی تھی۔ سپریم کورٹ کی بنچ میں جسٹس اے کے سکری بھی شامل ہیں۔ انھوں نے کہاکہ ہم ہائیکورٹ سے درخواست کرتے ہیں کہ وہ درخواست رٹ کی جلد سے جلد یکسوئی کردیں اور اِس کیس سے ممکنہ طور پر نمٹا جائے۔ ہائیکورٹ کے سنگل جج بنچ سے پہلے ہی کہا گیا ہے کہ وہ اِس مسئلہ پر اپنی حتمی رائے ظاہر کرے۔

عبوری احکام میں ہائیکورٹ کے جج نے اپنی رائے دی ہے۔ سپریم کورٹ بنچ نے کہاکہ اِس رائے میں جج نے اصل مسئلہ کی سماعت نہیں کی ہے لہذا ہائیکورٹ کے دیگر ججس کی جانب سے اِس درخواست کی سماعت ہوگی۔ بنچ نے اِس معاملہ کو بعدازاں خارج کردیا۔ قبل ازیں ہائیکورٹ نے سرکاری ملازمتوں میں مسلمانوں کو 5 فیصد تحفظات دینے کے فیصلہ پر بھی حکم التواء جاری کیا تھا لیکن تعلیمی اداروں میں مسلمانوں کے لئے کوٹہ برقرار رکھنے کی اجازت دی تھی۔ ہائیکورٹ نے یہ بھی کہا تھا کہ سپریم کورٹ کی ہدایات کے مطابق تحفظات کا فیصد جملہ نشستوں سے 50 فیصد تجاوز نہیں کرنا چاہئے اور کانگریس ۔ این سی پی حکومت نے اسمبلی انتخابات کے پیش نظر تحفظات دینے کی پالیسی کو 73 فیصد تک بڑھا دیا تھا۔ سرکاری ملازمتوں اور تعلیمی اداروں میں مراٹھا باشندوں کو 16 فیصد اور مسلمانوں کے لئے 5 فیصد کوٹہ مقرر کیا گیا ہے۔ ہائیکورٹ میں ریاستی حکومت کا استدلال تھا کہ اِن دونوں طبقات کو سماجی اور تعلیمی و معاشی پسماندگی سے باہر نکالنے کے لئے تحفظات ضروری ہیں اِس لئے حکومت نے سابق وزیر نارائن رانے کمیٹی کی رپورٹ پر ہی تحفظات کا اعلان کیا تھا۔