مذہب کی بنیاد پر ملازمت نہ دینے پر مرکزی وزیر نجمہ کا اظہار مذمت

نئی دہلی، 22 مئی (سیاست ڈاٹ کام) مرکزی وزیر برائے اقلیتی امور نجمہ ہبت اللہ نے ایم بی اے کامیاب نوجوان کو مذہب کی بنیاد پر ملازمت دینے سے ایک کمپنی کی جانب سے انکار کے واقعہ کی مذمت کی اور کہا کہ دستور ہند تمام کیلئے مساوی مواقع کی طمانیت دیتا ہے اور اس کی خلاف ورزی کے ساتھ سختی سے نمٹا جانا چاہئے۔ انھوں نے کہا کہ یہ واقعہ نہیں ہونا چاہئے تھا۔ ان سے اس واقعہ کے بارے میں تبصرہ کرنے کی خواہش کی گئی تھی۔ انھوں نے کہا کہ ہر شہری دستور کا پابند ہے اور ہر شخص کو اپنے اصولوں کا پابند ہونا چاہئے۔ اس بات کو یقینی بنانا چاہئے کہ ذات پات، فرقہ، زبان اور جنس کی بنیاد پر کسی سے کوئی تعصب نہ برتا جائے۔ انھوں نے کہا کہ اگر کوئی دستور کے ان اصولوں اور ہدایات کی خلاف ورزی کرتا ہے تو ہمارے ملک میں قانون موجود ہے اور ان کا احساس ہے کہ عدلیہ قطعی طورپر غیر متعصب ہے اور یہ بہت اچھی بات ہے۔ مرکزی وزیر اقلیتی امور اخباری نمائندوں سے بات چیت کر رہی تھیں۔ بزنس اڈمنسٹریشن کے گرائجویٹ ذیشان علی خان نے ہیرے برآمد کرنے والی ایک کمپنی میں 19 مئی کو درخواست دی تھی۔ ذیشان کے بموجب اسے اندرون پندرہ منٹ جواب حاصل ہو گیا کہ کمپنی صرف غیرمسلم امیدواروں کو ملازمت دیتی ہے۔ اس کی درخواست پر قومی اقلیتی کمیشن نے متعلقہ کاروباری گھرانے سے اس بارے میں وضاحت طلب کی۔ اس سوال پر کہ کیا اس سلسلے میں کسی قانون سازی کی ضرورت ہے، مرکزی وزیر نجمہ نے کہا کہ دستور پہلے ہی عظیم ترین قانون سازی ہے، جس کو آزادی کے وقت ہم منظوری دے چکے ہیں۔ ہمیں کسی تائیدی قانون کی ضرورت نہیں ہے۔ دستور عظیم ترین تحفظ ہے، جو ہر شہری کو ان اصولوں کی خلاف ورزی کی صورت میں حاصل ہے۔ تاہم کمپنی نے وضاحت کردی ہے کہ یہ ایک ’’غلطی‘‘ ہے، جو ایک ایچ آر شعبے سے وابستہ ایک زیر تربیت شخص سے سرزد ہوگئی ہے اور اس کے خلاف مناسب کارروائی کی جا رہی ہے۔ تاہم کمپنی نے اس زیرتربیت شخص کے نام کا انکشاف نہیں کیا ۔ مرکزی حکومت کا ردعمل بھی ایسا معلوم ہوتا ہے کہ صرف آنسو پونچھنے کی کوشش ہے ۔

منہ توڑ جواب : ذیشان کے ہندو
دوستوں نے متعصب کمپنی کو ٹھکرایا
ممبئی ، 22 مئی (سیاست ڈاٹ کام) ذیشان خان کے دو دوستوں مکند منی پانڈے (24 سال) ساکن پنویل اور اومکار بنسوڈے (22 سال) ساکن واشی نے ہری کرشنا اکسپورٹ پرائیویٹ لمیٹیڈ کی نوکری قبول نہ کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ یہ وہی کمپنی ہے جس نے ذیشان (ایم بی اے) کو مذہب کی بنیاد پر ملازمت نہیں دی۔ پانڈے اور اومکار دونوں نے ذیشان کے ساتھ ایم بی اے کی تکمیل کی ہے۔ انھوں نے مذہب پر امتیاز کو غلط قرار دیا۔