لکھنو ۔ /8 فبروری (سیاست ڈاٹ کام) مذہبی رواداری کے بارے میں صدر امریکہ بارک اوباما کا بیان وزیراعظم نریندر مودی اور بی جے پی کی آنکھیں کھولنے کیلئے کافی ہے ۔ مسلم مذہبی رہنماؤں اور اسکالرس نے آج کہا کہ وزیراعظم کو ایسے عناصر پر کنٹرول کرنا چاہیے جو نفرت انگیز تقاریر کے ذریعہ ان کے ترقیاتی ایجنڈہ کو نقصان پہونچارہے ہیں ۔ آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ کے سکریٹری جنرل مولانا نظام الدین نے آج کہا کہ اوباما نے کوئی نئی بات نہیں کہی ۔ اس سے مودی حکومت کی آنکھیں کھول جانی چاہئیے ۔ انہوں نے وزیراعظم سے اوباما کے بیان کے پس منظر میں ملک کی صورتحال پر توجہ دینے کا مطالبہ کیا ۔ انہوں نے کہا کہ ان کی پارٹی کے سینئر لیڈرس ایسی باتیں کررہے ہیں جن سے سماج میں نفرت بڑھ رہی ہے اور حکومت کے نعرے ’’سب کا ساتھ ،سب کا وکاس‘‘ کو نقصان ہورہا ہے ۔ دارالمصنفین شبلی اکیڈیمی کے پروفیسر اشتیاق احمد ذلی نے کہا کہ اوباما کا تبصرہ اس بات کی کھلی مثال ہے کہ بی جے پی قائدین اور ہندو تنظیموں کے لیڈرس کس نوعیت کے بیانات دے رہے ہیں
اور اس کی وجہ سے ملک کا وقار مجروح ہورہا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ یہ ایک حقیقت ہے کہ ملک اسی وقت ترقی کرسکتا ہے جب سماج کے ہر گوشہ کو شامل کیا جائے ۔ آل انڈیا شیعہ پرسنل لا بورڈ کے ترجمان مولانا مسعود عباس نے بھی مودی حکومت پر زور دیا ہے کہ وہ مذہب کے بارے میں اشتعال انگیز بیانات دینے والوں پر کنٹرول کریں ۔ انہوں نے کہا کہ ملک میں ایک سلسلہ چل پڑا ہے اور نام نہاد ہندو تنظیمیں گھر واپسی یا لو جہاد کے نام پر اشتعال انگیز بیانات دے رہی ہیں ۔ اس کی وجہ سے فرقہ وارانہ ہم آہنگی متاثر ہورہی ہے ۔ ان تمام نے یہ تبصرہ ایسے وقت کیا جبکہ صدر امریکہ بارک اوباما نے /5 فبروری کو کہا تھا کہ حالیہ دنوں میں ہندوستان کے اندر مذاہب کے ماننے والوں کو جس عدم رواداری کا سامنا کرنا پڑرہا ہے ان سے گاندھی جی کو بے حد صدمہ ہوتا ۔ انہوں نے اپنے دورہ ہند کے موقع پر بھی ہندوستان میں مذہبی عدم رواداری کا حوالہ دیتے ہوئے کہا تھا کہ یہ ملک اسی وقت اپنی ترقی کا سفر جاری رکھ سکتا ہے جب تمام مذاہب کے ماننے والوں کا احترام کیا جائے۔