مذاکرات کی منسوخی سے پاکستان کو پیغام

علحدگی پسندوں سے رابطہ کے خلاف مودی حکومت کا اقدام : امیت شاہ

حیدرآباد /22 اگست ( پی ٹی آئی ) بی جے پی کے صدر امیت شاہ نے آج کہا کہ مودی حکومت نے معتمدین خارجہ کی سطح پر مقررہ بات چیت کو منسوخ کرتے ہوئے پاکستان کو یہ پیغام بھیج دیا ہے کہ اس وقت تک باہمی مذاکرات نہیں ہوسکتے جب تک وہ (پاکستان ) ہندوستانی بالخصوص کشمیری علحدگی پسندوں کے ساتھ بات چیت میں مصروف رہتا ہے ۔ امیت شاہ نے کہا کہ ’’ جیسا کہ وہ ہمیشہ کیا کرتا ہے پاکستان نے اس مرتبہ بھی (معتمدین خارجہ کی سطح پر بات چیت سے قبل ) علحدگی پسندوں کو دعوت نامہ بھیجا تھا لیکن کسی بھی حکومت نے اس کو روکنے کی ہمت نہیں کی تھی ۔ مودی حکومت نے پاکستان کو یہ پیغام بھیج دیا ہے کہ اگر آپ علحدگی پسندوں سے بات چیت کرنا چاہتے ہیں تو پھر ہندوستان سے بات چیت نہیں کر سکیں گے ۔ میں فخر کے ساتھ کہہ سکتا ہوں کہ یہ صرف ایک بی جے پی کے وزیر اعظم ہی کہہ سکتے ہیں ‘‘ ۔ امیت شاہ نے کہا کہ بالکل اسی طرح حکومت نے عالمی تجارتی تنظیم ( ڈبلیو ٹی او ) کے مجوزہ سمجھوتے کو قبول نہ کرنے کا فیصلہ کیا کیونکہ یہ ملک کے کسانوں کے مفادات کے خلاف ہے ۔ انہوں نے کہا کہ موتی حکومت نے صفائی ، بیت الخلاء کی تعمیر ملک میں صنعتی پیداوار کے فروغ جیسی نئی مہم شروع کی ہے ۔ بی جے پی کے صدر امیت شاہ آج یہاں تلنگانہ میں اپنے پارٹی کے دیہی یونٹوں کے صدور کے کنونشن سے خطاب کر رہے تھے ۔ انہوں نے دعوی کیا کہ سماج کے مختلف طبقات آج بی جے پی اور مودی کی قیادت کی سمت دیکھ رہے ہیں ۔ انہوں نے پارٹی کارکنوں پر زور دیا کہ وہ عوام تک پہونچیں اور پارٹی کو پولنگ بوتھ سطح تک وسعت دیں ۔ امیت شاہ نے اپنے یقین کا اظہار کیا کہ اگر بی جے پی قائدین اور کارکن ریاست میں اپنی پارٹی کو مستحکم بنائیں تو 2019 کے انتخابات میں بی جے پی تلنگانہ میں برسر اقتدار آئے گی ۔ امیت شاہ نے کہا کہ بشمول تلنگانہ ، آندھراپردیش ، ٹاملناڈو ، کیرالہ ، آسام ، مغربی بنگال اور ملک کی مشرقی ریاستوں میں بی جے پی کو مستحکم بنانے کی ضرورت ہے ۔