مدرسے ہندوستان کی حقیقت، سیاست نہیں ہونا چاہئے

ممبئی ، 3 جولائی (سیاست ڈاٹ کام) مرکزی وزیر مختار عباس نقوی نے آج مہاراشٹرا میں صرف مذہبی تعلیم دینے والے مدرسوں کو غیرمسلمہ قرار دینے سے متعلق بی جے پی زیرقیادت حکومت کے فیصلے پر مسلم برادری کے خدشات کو دور کرنے کی کوشش میں کہا کہ مدارس ’’ہندوستان کی حقیقت‘‘ ہیں اور ’’اس مسئلے پر کوئی سیاست نہیں ہونا‘‘ چاہئے۔ نقوی جو مرکزی مملکتی وزیر برائے اقلیتی امور ہیں، انھوں نے کہا کہ حکومت ان اسلامی درسگاہوں کو قانون حق تعلیم کے تحت اصل دھارے کے تعلیمی نظام میں شامل کرنے پر غور کرے گی۔ ’’میں نے مدرسوں کو یقین دلایا ہے کہ حکومت تمام کیلئے تعلیم کے حق میں ہے اور میں انھیں تیقن دینا چاہتا ہوں کہ فنڈز کوئی رکاوٹ نہ ہوگی،‘‘ نقوی نے جو اس شہر کے دورے پر تھے، نیوز ایجنسی ’پی ٹی آئی‘ کو یہ بات بتائی۔ انھوں نے کہا کہ حکومت اسلامی تعلیم فراہم کرنے والے ان مراکز کو قانون حق تعلیم کے تحت اصل دھارے کے تعلیمی سسٹم میں شامل کرنے پر بھی غور کرے گی۔ انھوں نے مزید کہا: ’’ہمارا احساس ہے کہ مدرسوں کے مسئلے پر کوئی سیاست نہیں ہونا چاہئے۔ ہم اسے ووٹ بینک کی سیاست نہیں مانتے ہیں۔ یہ مسئلہ مسلم برادری کو بااختیار بنانے سے متعلق ہے۔ ‘‘ نقوی نے سابقہ کانگریس زیرقیادت حکومت کو ایسے قانون حق تعلیم کو متعارف کرانے پر تنقید کا نشانہ بنایا، جو اُن کے بقول مدرسوں کو تعلیمی ادارے نہیں سمجھتا ہے۔ اس بات پر زور دیتے ہوئے کہ بی جے پی زیرقیادت حکومت ’’تمام طبقات کی ترقی کی پابند عہد‘‘ ہے، نقوی نے کہا، ’’ہمیں نرمی کا معاملہ اختیار کرنا پڑے گا۔ ترجیح تمام کیلئے تعلیم ہونا چاہئے‘‘۔

ہندوستان میں ایک تہائی دیہی آبادی ناخواندہ
نئی دہلی ، 3 جولائی (سیاست ڈاٹ کام) سماجی معاشی اور ذات پات کے بارے میں مردم شماری 2011ء سے معلوم ہوا ہے کہ دیہی علاقوں میں مقیم زائد از ایک تہائی ہندوستانی آبادی آزادی کے 68 برس بعد بھی ناخواندہ ہے۔ اس اہم دستاویز کے مواد سے ظاہر ہوا کہ دیہی ہندوستانی آبادی کا تقریباً 64 فیصد حصہ ہی خواندہ ہے۔