مدارس، دہشت گردی نہیں دینی تعلیم عام کررہے ہیں

نصاب میں عصری تعلیم کی شمولیت پر زور، فرینک اسلام
لکھنؤ 10 مارچ (سیاست ڈاٹ کام) امریکہ کے اُبھرتے ہوئے صنعتکار و شہری حقوق جہدکار فرینک اسلام نے دینی مدارس پر مذہبی تعلیم کو فروغ دینے کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے کہاکہ اسلامی اداروں کو ہر قسم کی دہشت گردی کے خلاف آواز اُٹھانا چاہئے۔ فرینک اسلام نے پی ٹی آئی سے بات چیت کرتے ہوئے کہاکہ ’شخصی طور پر میں یہ محسوس کرتا ہوں کہ مدرسوں کی اکثریت مذہبی تعلیم کے لئے کام کررہی ہے اور دہشت گردی سے اس کا کوئی سروکار نہیں ہے۔ مدارس بذات خود اپنے بارے میں پیدا شدہ نظریات تبدیل نہیں کرسکتے۔ وہ صرف یہی کرسکتے ہیں کہ ہر قسم کی دہشت گردی کے خلاف آواز اُٹھائیں‘۔ اُنھوں نے کہاکہ مدرسوں کے ذمہ داروں کو دیگر مذاہب کے قائدین سے بھی ربط کرنا چاہئے اور ہندوستان میں بین مذہبی امن و ہم آہنگی کی ترغیب دی جائے۔ فرینک اسلام نے مزید کہاکہ ’مَیں اس ضمن میں میری مادر علمی علیگڑھ مسلم یونیورسٹی اور بنارس ہندو یونیورسٹی کے درمیان رابطوں کی ضرورت پر زور دے چکا ہوں اور ایسا کرتا رہوں گا‘۔ فرینک اسلام نے جن کا تعلق اعظم گڑھ سے ہے، کہاکہ دینی تعلیمی مدرسوں کے نصاب کو متنوع بنایا جانا چاہئے اور اس میں سائنس، ٹیکنالوجی اور ریاضی کو بھی شامل کیا جانا چاہئے۔