محکمہ واٹر ورکس کو کروڑوں روپئے سرکاری محکموں سے وصول طلب

اعلیٰ افسران کو بقایا جات کی ادائیگی کیلئے مکتوب روانہ کرنے کا فیصلہ

حیدرآباد۔/9اکٹوبر، ( سیاست نیوز) حیدرآباد میٹر وواٹر ورکس کو مختلف سرکاری محکموں کی جانب سے بھاری مقدار میں واٹر سپلائی کے بلس واجب الادا ہیں جبکہ بورڈ کی آمدنی اور اخراجات میں مطابقت نہیں ہوپارہی ہے کیونکہ ماہانہ مختلف طرح سے بورڈ کو 120 کروڑ کی آمدنی ہوتی ہے مگر ملازمین کی تنخواہوں اور دیگر اخراجات کیلئے ماہانہ 20 کروڑ کے قرض لینا پڑتا ہے جبکہ بورڈ کو کرشنا و گوداوری ندیوں سے پانی شہر منتقل کرکے سربراہ کرنے کیلئے ڈسکام کو ماہانہ 70 کروڑ روپئے ادا کرنا پڑتا ہے اور فی الحال فی یونٹ 7 روپئے ادا کرنا پڑ رہا ہے۔ البتہ حالیہ دنوں میں حکومت نے یونٹ کے چارجس میں کمی کرتے ہوئے احکامات جاری کئے ہیں اور ساتھ ہی بورڈ کے افسران سرکاری محکمہ جات کی جانب سے واجب الادا بقایا جات کی وصولی پر بھی خصوصی توجہ مرکوز کررہے ہیں اور خاص کر محکمہ صحت، محکمہ اعلیٰ تعلیم، محکمہ داخلہ، محکمہ تعمیر امکنہ، محکمہ پنچایت راج، محکمہ شہری ترقیات ، محکمہ اسکولی تعلیم، محکمہ ٹرانسپورٹ، محکمہ عمارات و شوارع کی جانب سے بھاری مقدار میں میٹر بلس کی ادائیگی نہیں کی گئی ہے اور تقریباً 25 محکموں کی جانب سے 451 کروڑ روپئے کے بقایا جات واجب الادا ہیں جس کی وجہ سے واٹر بورڈ کی جانب سے مختلف ترقیاتی کاموں میں رکاوٹ پیدا ہورہی ہے لہذا واٹر بورڈ کے افسران نے قرضدار تمام سرکاری محکموں کے اعلیٰ افسران کو بقایا جات کی ادائیگی سے متعلق مراسلے روانہ کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ مختلف سرکاری محکمہ جات کی جانب سے واجب الادا بقایہ کی تفصیلات اس طرح ہیں :محکمہ صحت اور علاج و معالجہ 553.26 لاکھ ہیں جبکہ محکمہ تعمیر امکنہ 791.63، یونیورسٹیز 130.26 ،محکمہ روڈس اینڈ ٹرانسپورٹ 526.93، محکمہ اعلیٰ تعلیم 1,943.72، محکمہ پنچایت راج 39.686.71، محکمہ ایندھن 30.43، محکمہ سیاحت و امور نوجوانان 22.21، محکمہ قانون 9.71 اور محکمہ مویشیاں 3.32 لاکھ روپئے ادا شدنی ہیں۔