سیاسی دباؤ اور عہدیداروں کی عدم رضا مندی جیسے عوامل رکاوٹ ، وقف بورڈ اور حج کمیٹی کی تقسیم کا عمل تیز
حیدرآباد۔/19جون، ( سیاست نیوز) تلنگانہ حکومت کو محکمہ اقلیتی بہبودکیلئے عہدیداروں کے تقرر کے سلسلہ میں آزمائش کا سامنا ہے۔ سکریٹری اقلیتی بہبود، کمشنر اقلیتی بہبود اور اسپیشل آفیسر وقف بورڈ جیسے اہم عہدوں پر تلنگانہ حکومت موزوں عہدیداروں کا تقرر کرنا چاہتی ہے تاہم مختلف گوشوں سے سیاسی دباؤ اور پھر عہدیداروں کی عدم رضامندی حکومت کیلئے دشواری کا باعث بنی ہوئی ہے۔ باوثوق ذرائع نے بتایا کہ چیف منسٹر چندر شیکھر راؤ نے تلنگانہ کے پرنسپل سکریٹری اقلیتی بہبود کے طور پر آئی اے ایس عہدیدار جناب احمد ندیم کے نام کو قطعیت دی تھی تاہم جناب احمد ندیم جو سابق میں مختصر مدت کیلئے اس عہدہ پر خدمات انجام دے چکے ہیں وہ دوبارہ اس محکمہ میں تعیناتی کیلئے تیار نہیں۔ بتایا جاتا ہے کہ انہوں نے چیف منسٹر کے دفتر کو اس کی اطلاع دے دی۔ جس کے بعد سے حکومت نے نئے سکریٹری کی تلاش شروع کردی ہے۔ بتایا جاتا ہے کہ آئی اے ایس عہدیداروں کی کمی کے پیش نظر چیف منسٹر موجودہ انچارج پرنسپل سکریٹری ڈاکٹر ٹی رادھا کی برقراری کے حق میں ہیں۔ وہ اقلیتی بہبود کے علاوہ ایس سی، ایس ٹی اور بی سی کی بھلائی کے اُمور کے انچارج ہیں، انہیں اقلیتی بہبود کے انچارج پرنسپل سکریٹری کی حیثیت سے برقرار رکھتے ہوئے حکومت کمشنر اقلیتی بہبود کے عہدہ پر کسی مسلم عہدیدار کے تقرر کی خواہاں ہے۔ اگر کسی مسلم عہدیدار کو کمشنر اقلیتی بہبود مقرر کیا جائے گا تو انہیں اسپیشل آفیسر وقف بورڈ کی زائد ذمہ داری دی جاسکتی ہے۔ فی الوقت شیخ محمد اقبال کمشنر اقلیتی بہبود کی حیثیت سے برقرار ہیں۔ نئے عہدیدار کے تقرر کی صورت میں وہ آندھرا پردیش کیلئے کمشنر اقلیتی بہبود تصور کئے جائیں گے۔ جناب شیخ محمد اقبال کی اسپیشل آفیسر کی حیثیت سے میعاد کل ختم ہوگئی۔
بتایا گیا ہے کہ حکومت انچارج کمشنر اقلیتی بہبود کیلئے بعض ناموں پر غور کررہی ہے۔ اسی دوران اسپیشل آفیسر کے عہدہ پر شیخ محمد اقبال کی توسیع سے متعلق فائیل پر حکومت نے ابھی تک کوئی قطعی فیصلہ نہیں کیا ہے۔ یہ فائیل اقلیتی بہبود کیلئے حکومت کے مشیر ڈاکٹر رام لکشمن اور پرنسپل سکریٹری چیف منسٹر نرسنگ راؤ کی رائے کی منتظر ہے۔ ان دونوں عہدیداروں کی رائے حاصل کرنے کے بعد چیف منسٹر قطعی فیصلہ کریں گے۔ تلنگانہ حکومت نے وقف بورڈ اور حج کمیٹی کی تقسیم کے عمل کو تیز کردیا ہے تاکہ ان اداروں پر تقررات کئے جاسکیں۔ محکمہ اقلیتی بہبود کی جانب سے وقف بورڈ کی تقسیم کے سلسلہ میں سنٹرل وقف کونسل سے اجازت طلب کی گئی ہے کیونکہ وقف بورڈ مرکزی قانون وقف کے تحت آتا ہے اور اس کی تقسیم کیلئے مرکز کی منظوری لازمی ہے۔ اس سلسلہ میں محکمہ اقلیتی بہبود سے فائیل آج حکومت کو روانہ کردی گئی۔ اس سے قبل حج کمیٹی کی تقسیم کیلئے سنٹرل حج کمیٹی کو مکتوب روانہ کیا گیا۔ واضح رہے کہ حج کمیٹی سنٹرل حج کمیٹی ایکٹ کے تحت کام کرتی ہے اور اس کی تقسیم سے قبل مرکز کی منظوری لازمی ہے۔ تلنگانہ حکومت نے شیڈول 10میں شامل ان دونوں اداروں کی عاجلانہ تقسیم کی مساعی کا آغاز کیا ہے۔