ریٹائرڈ عہدیدار کی میعاد کی تکمیل پر بحران،اقلیتی بہبوداضافی ذمہ داریوں کا محکمہ ،مستقل عہدیداروں کی ضرورت
حیدرآباد۔/12 اپریل، ( سیاست نیوز) حکومت کو اقلیتی بہبود سے کبھی بھی دلچسپی نہیں رہی جس کا اظہار محکمہ اقلیتی بہبود کی زبوں حالی سے ہوتا ہے۔ اقلیتوں کی بھلائی کے بلند بانگ دعوے کرنے والی ٹی آر ایس حکومت نے محکمہ میں قابل اور اہل عہدیداروں کی کمی پورا کرنے پر کبھی توجہ نہیں دی اور گزشتہ پانچ برسوں میں موجودہ چند ایک عہدیداروں کو زائد ذمہ داریاں تفویض کرتے ہوئے محکمہ کو ’’ کام چلاؤ ‘‘ طریقہ سے آگے بڑھایا گیا۔ اب صورتحال یہ ہوچکی ہے کہ محکمہ اقلیتی بہبود عملاً بحران کا شکار ہوچکا ہے کیونکہ آج تین اہم اقلیتی ادارے اپنے ہیڈ آف دی ڈپارٹمنٹ سے محروم ہوچکے ہیں۔ اس کے علاوہ دو اہم اداروں پر مامور عہدیدار زائد ذمہ داری کی طرح نبھارہے ہیں۔ تین اہم ادارے اقلیتی فینانس کارپوریشن، حج کمیٹی اور اردو اکیڈیمی آج یعنی 12 اپریل کو اپنے نگران عہدیدار کے بغیر ہوچکے ہیں اور حکومت نے ابھی تک کسی متبادل عہدیدار کا تقرر نہیں کیا ہے۔ واضح رہے کہ ریٹائرڈ آئی ایف ایس عہدیدار جناب محمد عبدالوحید کو 12 اپریل 2018 کو ایک سال کی مدت کیلئے محکمہ میں بازمامور کرتے ہوئے منیجنگ ڈائرکٹر اقلیتی فینانس کارپوریشن مقرر کیا تھا۔ گزشتہ دنوں پروفیسر ایس اے شکور کو حج کمیٹی اور اردو اکیڈیمی کی اضافی ذمہ داری سے سبکدوشی کے بعد جناب ایم اے وحید کو یہ دونوں اداروں کی زائد ذمہ داری دے دی گئی تھی۔ جناب ایم اے وحید کی ایک سالہ میعاد آج ختم ہوگئی جس کے سبب تین اہم ادارے کسی عہدیدارکے بغیر ہوچکے ہیں ۔ اطلاعات کے مطابق جناب ایم اے وحید کی خدمات میں توسیع سے متعلق فائیل محکمہ میں زیر التواء ہے اور اس پر چیف منسٹر کی منظوری ضروری ہے۔ ایسے میں جی او کی اجرائی کیلئے وقت لگ سکتا ہے۔ اس وقت تک یہ تینوں اہم ادارے کسی عہدیدار کے کنٹرول کے بغیر کس طرح کام کریں گے۔ عام طور پر کسی ریٹائرڈ عہدیدار کو دوبارہ بازمامور کرنے کیلئے محکمہ فینانس کی منظوری ضروری ہے اور حکومت کی پالیسی کے اعتبار سے بتایا جاتا ہے کہ صرف ایک سال کی توسیع کی جاتی ہے۔ جناب ایم اے وحید 2013 میں وظیفہ پر سبکدوش ہوئے تھے اور 2018 میں انہیں ایک سال کیلئے اقلیتی فینانس کارپوریشن میں مقرر کیا گیا تھا۔ گزشتہ کئی برسوں سے محکمہ اقلیتی بہبود عہدیداروں کی کمی کا شکار ہے۔ پروفیسر ایس اے شکور جو سی ای ڈی ایم کے ڈائرکٹر ہیں وہ اردو اکیڈیمی اور حج کمیٹی کے علاوہ مائناریٹیز اسٹڈی سرکل کی اضافی ذمہ داری سنبھال رہے تھے ۔ انہوں نے 23 مارچ کو حکومت کو مکتوب روانہ کرتے ہوئے اضافی ذمہ داریوں سے سبکدوشی کی خواہش کی جس کے بعد جناب شاہنواز قاسم ( آئی پی ایس ) کو حج کمیٹی اور جناب بی شفیع اللہ کو میناریٹیز اسٹڈی سرکل کی اضافی ذمہ داری دی گئی جبکہ جناب ایم اے وحید کو اردو اکیڈیمی کی اضافی ذمہ داری سپرد کی گئی۔ اب جبکہ جناب ایم اے وحید کی ایک سالہ میعاد آج ختم ہوگئی تو محکمہ اقلیتی بہبود عملاً بحران کا شکار ہوچکا ہے۔ اگر حکومت ان اداروں کی بہتر کارکردگی میں سنجیدہ ہوتی تو میعاد کی تکمیل سے قبل ہی توسیع کے بارے میں کوئی فیصلہ کیا جاتا۔ اب جبکہ تینوں اہم ادارے کسی عہدیدار کے بغیر ہوچکے ہیں تو حکومت کو چاہیئے کہ فوری متبادل انتظام کرے اور محکمہ میں زیر تصفیہ فائیل کی یکسوئی کرے۔ حکومت کے احکامات کی اجرائی تک تینوں اداروں میں پالیسی فیصلے نہیں کئے جاسکتے۔ بتایا جاتا ہے کہ پیر کے دن یہ معاملہ حکومت سے رجوع کیا جائے گا۔ دوسری طرف شاہنواز قاسم جو ڈائرکٹر اقلیتی بہبود کے علاوہ چیف ایکزیکیٹو آفیسر وقف بورڈ کی ذمہ داری سنبھالے ہوئے ہیں ان دنوں مہاراشٹرا میں الیکشن ڈیوٹی پر تعینات ہیں۔ حکومت نے چیف ایکزیکیٹو آفیسر کے عہدہ کی اضافی ذمہ داری بی شفیع اللہ سکریٹری اقامتی اسکول سوسائٹی کو دی ہے جبکہ شریمتی کانتی ویسلی منیجنگ ڈائرکٹر کرسچن فینانس کارپوریشن کو ڈائرکٹر اقلیتی بہبود کی اضافی ذمہ داری دی گئی ۔ اس طرح فی الوقت بی شفیع اللہ اپنی مقررہ ذمہ داری کے علاوہ دو زائد ذمہ داریاں سنبھالے ہوئے ہیں۔ اگر یوں کہا جائے تو غلط نہ ہوگا کہ تلنگانہ حکومت نے محکمہ اقلیتی بہبود کو اضافی ذمہ داری کا محکمہ بنادیا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ کوئی بھی عہدیدار اقلیتی بہبود میں خدمات انجام دینے کیلئے تیار نہیں۔