مکہ مسجد کے ہوم گارڈس دو ماہ کی تنخواہ سے محروم
حیدرآباد۔/6مارچ، ( سیاست نیوز) محکمہ اقلیتی بہبود کی جانب سے مارچ کے ختم تک تمام اسکیمات پر مکمل عمل آوری کے دعوے کئے جارہے ہیں لیکن محکمہ کے یہ دعوے اس وقت کھوکھلے ثابت ہوئے جب تاریخی مکہ مسجد کی حفاظت پر تعینات ہوم گارڈز گذشتہ دو ماہ کی تنخواہوں سے محروم ہیں۔ محکمہ اقلیتی بہبود کے کسی عہدیدار کو ان غریب ہوم گارڈز کے مسائل کی کوئی فکر نہیں۔ مکہ مسجد کی صیانت اور اس کے تحفظ کو یقینی بنانے کیلئے 24گھنٹے فرائض انجام دینے والے 16ہوم گارڈز جنوری اور فبروری کی تنخواہوں سے محروم ہیں اور وہ اس سلسلہ میں محکمہ اقلیتی بہبود کے عہدیداروں سے نمائندگی کرتے ہوئے تھک چکے ہیں۔ مکہ مسجد کے سپرنٹنڈنٹ کو بھی ان ہوم گارڈز پر ترس نہیں آیا وہ روزانہ حج ہاوز میں ڈسٹرکٹ میناریٹی ویلفیر آفس میں خدمات انجام دے رہے ہیں لیکن انہیں ہوم گارڈز کی تنخواہوں کی ادائیگی کی کوئی فکر نہیں۔ تنخواہوں کے سلسلہ میں محکمہ اقلیتی بہبود کے عہدیدار تسلی دیتے ہیں کہ ان کی تنخواہ کمانڈنٹ ہوم گارڈ کو جاری کردی گئی لیکن وہاں پتہ چلا کہ محکمہ کی جانب سے جاری کردہ چیک باؤنس ہوچکا ہے۔ مکہ مسجد کے سپرنٹنڈنٹ اور دیگر ملازمین کو تو ہر ماہ مقررہ وقت پر تنخواہیں وصول ہورہی ہیں لیکن گذشتہ دو ماہ سے ہوم گارڈز پریشان ہیں۔ وہ تنخواہ کے بغیر کس طرح اپنا گھر چلاپائیں گے اس کی فکر کسی عہدیدار کو نہیں۔ حکومت نے ایک ریٹائرڈ عہدیدار کو مکہ مسجد کا سپرنٹنڈنٹ مقرر کیا لیکن وہ روزانہ حیدرآباد میناریٹی ویلفیر دفتر میں خدمات انجام دیتے ہیں اور مکہ مسجد کے مسائل کی انہیں کوئی فکر نہیں۔ بتایا جاتا ہے کہ سپرنٹنڈنٹ کے رویہ سے بھی ہوم گارڈز کو مایوسی ہوئی ہے
حالانکہ ان کی ذمہ داری ہے کہ وہ ہوم گارڈز کی تنخواہوں کی بروقت ادائیگی کو یقینی بنائیں۔ مکہ مسجد اور شاہی مسجد باغ عامہ کے لئے کنٹراکٹ بنیاد پر سپرنٹنڈنٹس کا تقرر تو کیا گیا لیکن اسٹاف کی کمی کا بہانہ بناکر ڈسٹرکٹ میناریٹی ویلفیر آفس حیدرآباد میں ان سے کام لیا جارہا ہے۔ اگر ڈی ایم ڈبلیو آفس میں اسٹاف کی کمی ہے تو اس مسئلہ کو کمشنر اقلیتی بہبود سے رجوع کیا جاسکتا ہے لیکن مساجد کے سپرنٹنڈنٹس کو یہاں خدمات کیلئے جبراً طلب کرنا باعث حیرت ہے۔ اس سلسلہ میں کمشنر اقلیتی بہبود شیخ محمد اقبال اور اسپیشل سکریٹری اقلیتی بہبود سید عمر جلیل کو فوری توجہ دینی چاہیئے۔ ہوم گارڈز نے شکایت کی کہ دو ماہ سے تنخواہوں کی عدم ادائیگی کے سبب وہ اپنا گھر چلانے کیلئے قرض میں مبتلا ہوچکے ہیں لیکن ان کی سنوائی کسی عہدیدار کے پاس نہیں ہوتی۔