حیدرآباد ۔ 5 ۔ ستمبر : ( نمائندہ خصوصی ) : آرکیالوجیکل سروے آف انڈیا ( محکمہ آثار قدیمہ ) تاریخی تہذیبی آثار کے محافظ ہونے کا دعویدار ہے لیکن جہاں تک تاریخی شہر حیدرآباد اور اس کے تاریخی آثار کا سوال ہے محکمہ انتہائی ناکارہ ثابت ہوا ہے ایسا لگتا ہے کہ محکمہ آثار قدیمہ کو فن تعمیر کی شاہکار خوبصورت تاریخی مساجد کی حفاظت کی فکر ہے اور نہ ان رعایا پرور حکمرانوں کے گنبدوں کے تحفظ سے کوئی واسطہ ہے جنہوں نے اپنی انصاف پسند حکمرانی کے ذریعہ ہندوستان کے تہذیبی ورثہ میں بیش بہا اضافہ کیا ہے ۔ بہر حال ہم کیا ہر ذی ہوش ذمہ دار شہری بلا جھجک یہ کہہ سکتا ہے کہ محکمہ آثار قدیمہ غافل و متعصب عہدیداروں کا ’ اڈہ ‘ بن گیا ہے ۔ یہ ہی وجہ ہے کہ ہمارے تاریخی شہر کے کئی تاریخی عمارتیں وآثار آہستہ آہستہ اپنا وجود کھو رہے ہیں ۔ آرکیالوجیکل سروے آف انڈیا کی مجرمانہ لاپرواہی یا غفلت کا اندازہ لگانا ہو تو قارئین صرف قلعے کے اندرونی حصے میں ASI کے دفتر کی ہی سیر کرلیجئے ۔ آپ کو پتہ چل جائے گا کہ کس طرح جان بوجھ کر اس محکمہ نے تاریخی آثار بالخصوص ہندوستان کو مسلم حکمرانوں کی دی گئیں بیش قیمت آثار کو تباہی کے لیے کھلے چھوڑ دیا ہے ۔ دفتر کے عقب میں تاریخی فولادی توپوں کو لاپرواہی سے پھینک دیا گیا ہے ۔ چھان بین پر پتہ چلا قلعہ گولکنڈہ کے حدود میں کم از کم 11 قیمتی و نادر توپ جس پر ’ محمد قاسم ‘ لکھا ہے انتہائی لاپرواہی سے پڑے ہوئے ہیں ۔ ( جب کہ سارے قلعہ میں توپوںکی تعداد 87 بتائی جاتی ہے ) نوادرات کے سارق ان توپوں کا بآسانی سرقہ کرسکتے ہیں ۔ آرکیالوجیکل سروے آف انڈیا (ASI) کے حکام کی لاپرواہی سے تو ایسا ہی لگ رہا ہے کہ وہ بھی یہی چاہتے ہیں کہ ان توپوں کا سرقہ ہوجائے ۔ قارئین آپ کو بتادیں کہ ہر توپ پر عربی اور فارسی تحریر واضح طور پر دکھائی دے رہی ہے ۔ مقامی لوگوں نے بتایا کہ بار بار اطلاع دینے پر بھی کوئی عہدیدار حرکت میں نہیں آتا ۔ بعض لوگوں نے بتایا کہ تاریخی دستی توپوں کی اس حالت زار کو دیکھ کر انہیں تکلیف ہوتی ہے ۔ توپوں کی بربادی کا سامان صرف اور صرف اس لیے تو نہیں کررہے ہیں کہ ان کا تعلق مسلم دور حکمرانی سے ہے اور اس کے علاوہ آپ دیکھ سکتے ہیں کہ قلعہ گولکنڈہ اور سات گنبد و گولف کلب کے حدود میں موجود توپیں کس طرح زمین میں دھنستی جارہی ہے ۔ زمین میں دھنستی ان توپوں کو دیکھ کر ایسا لگ رہا ہے کہ محکمہ آثار قدیمہ مسلم حکمرانوں کی بے مثال حکمرانی ، ان کے تاریخی کارناموں ، بہادری اور وفاداری کی ناقابل فراموش داستانوں کو زمین میں دھنسانے کی کوشش کررہا ہے ۔ آپ تصویر میں دیکھ سکتے ہیں کہ خود قلعہ کے اندر ایک توپ جس پر محمد قاسم لکھا ہے اسے کسی مشین سے کاٹا گیا ہے اور ایک توپ کے دو حصے الگ الگ بھی کیے گئے ہیں ۔ کیا آثار قدیمہ اس طرح حفاظت کرتا ہے جب کہ ہم انگریزوں یا مغرب کے کسی اور ملک میں دیکھیں تو وہاں کے محکمہ جات آثار قدیمہ اس طرح کے تاریخی آثار کی حفاظت کے لیے کیسے بہتر انتظام کرتے ہیں کم از کم ہمارے محکمہ آثار قدیمہ کے عہدیداروں کو ان بہتر انتظامات کی دستاویزی فلمیں دکھانی چاہئیں تاکہ وہ تعصب اور غفلت کے زہر کو اپنے ذہن و دل سے نکال سکیں ۔ بہر حال محکمہ آثار قدیمہ کو کم از کم اب تو ہوش میں آنا چاہئے ۔ بزرگ شہریوں کا خیال ہے کہ مختلف حصوں میں پھیلے ہوئے ان تمام توپوں کو یکجا کرتے ہوئے کسی ایک مقام پر باضابطہ توپ میوزیم تعمیر کرتے ہوئے اس میں نمائش کے لیے رکھ دینا چاہئے ۔ جس سے نہ صرف ان توپوں کی حفاظت ہوگی بلکہ عوام کو بھی دکن کے تاریخی حکمرانوں کی دور اندیشی ، قدیم زمانے کے آلات حربی اور جنگی طریقوں کے بارے میں جاننے کا موقع ملے گا ۔۔