محمد مصطفی کو زندہ جلانے کے واقعہ کی رپورٹ ملنے کے بعد کارروائی وزیر داخلہ کا اسمبلی میں جواب

حیدرآباد /13 نومبر (سیاست نیوز) حکومت مہدی پٹنم کے قریب صدیق نگر کے رہنے والے 11 سالہ لڑکے محمد مصطفیٰ کے مبینہ طور پر ملٹری جوان کے ہاتھوں جھلس کر فوت ہونے کے واقعہ کی تحقیقاتی رپورٹ حاصل ہونے کے بعد سخت کارروائی کرے گی ۔ ایوان اسمبلی میں وقفہ صفر کے دوران ایک سوال کے جواب میں وزیر داخلہ مسٹر این نرسمہا ریڈی نے کہا کہ واقعہ کی تحقیقات جاری ہیں اور بعد تکمیل تحقیقات رپورٹ کی وصولی کے ساتھ ہی خاطی افراد کی نشاندہی کے فوری بعد سخت کارروائی کرنے اقدامات کرے گی ۔ انہوں نے کہا کہ حکومت کی جانب سے بہت جلد مہلوک محمد مصطفی کے افراد خاندان کو ایکس گریشیاء رقم ادا کی جائے گی ۔ وزیر داخلہ نے مزید کہا کہ صدیق نگر کے عوام کو کسی اور مقام پر منتقل کرنے یا صدیق نگر کے عوام کو عقبی حصہ سے راستہ فراہم کرنے کے مسئلہ پر بہت جلد جائزہ لیا جائے گا اور آپسی تبادلہ خیال کے بعد اس سلسلہ میں اقدامات کئے جائیں گے ۔