حیدرآباد ۔ 23 ۔ اپریل : ( نمائندہ خصوصی ) : ایک آیت قرآنی کا مفہوم ہے ’کرو مہربانی تم اہل زمین پر ، خدا مہرباں ہوگا فرش بریں پر ‘ ۔ اسی مفہوم قرآن پر اور اصول زندگی پر عمل کرتے ہوئے اکثر صاحب استطاعت خدمت خلق کے تحت کچھ نہ کچھ خدمات انجام دیتے رہے ہیں ۔ پہلے مسلمان مسافر خانے ، آبدار خانے ، سرائے خانے قائم کیا کرتے تھے ۔ جس سے عوام بلا لحاظ مذہب و ملت استفادہ کیا کرتے تھے اور کررہے ہیں ۔ ایسے خدمات میں سے ایک مسجد چوک کے روبرو 1960 میں قائم کردہ آبدار خانہ بھی ہے ۔ اسے نیک گھرانے سے تعلق رکھنے والی خاتون صاحبزادی سعادت النساء بیگم محل نواب خیر نواز جنگ بہادر اور صاحبزادی تمیز النساء بیگم نے ایصال ثواب کے لیے قائم کیا تھا اور اسی کے تحت دو ملگیاں بھی وقف کی گئی ہیں تاکہ اس سے ہونے والی آمدنی سے اس آبدار خانے کے اخراجات پورے کیے جاسکیں کچھ عرصہ قبل اس آبدار خانے کو بند کردیا گیا تھا ۔ تاہم مسجد چوک کے ملگیات کے کرایہ داروں اور مقامی افراد نے مل کر اس نیک کام کو دوبارہ شروع کیا ۔ اس آبدار خانہ کے ذریعہ عوام کو صبح 8 بجے سے رات 11 بجے تک پانی حاصل ہوتا ہے ۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ اس طرح کے آبدار خانے قائم کئے جائیں تاکہ اہل ایمان کی یہ قدیم روایات کا تسلسل جاری ہے اور خلق خدا اس سے استفادہ کرتے رہیں ۔ اس موقع پر ہم آپ کو مسجد چوک کی بھی مختصر تفصیلات پیش کررہے ہیں جو اس طرح ہے ۔ مسجد چوک 1817 ء میں خواجہ عبداللہ خان نے اپنے ذاتی صرفہ سے تعمیر کروائی تھی جو مسجد چوک کے نام سے مشہور ہوگئی ۔ نواب میر محبوب علی خاں بہادر کے نام پر محبوب چوک نام رکھا گیا ۔ محبوب چوک کا خوبصورت کلاک ٹاور پانچ منزلہ ہے جو انگریزی طرز تعمیر میں بنایا گیا ہے یہ کلاک ٹاور آسمان جاہ نے تعمیر کروایا تھا ۔ اس کی تعمیر 1874 میں شروع ہوئی اور 1877 میں تکمیل کو پہنچی ۔۔