آڈٹ رپورٹ کے باعث کمیٹی کی تشکیل روک دی گئی، صدرنشین وقف بورڈ محمد سلیم کی پریس کانفرنس
حیدرآباد۔ 19 اپریل (سیاست نیوز) صدرنشین وقف بورڈ محمد سلیم نے انکشاف کیا کہ محبوب نگر وقف کامپلکس کی آمدنی میں 68 لاکھ روپئے کی بے قاعدگیاں کی گئیں جس کے نتیجہ میں بورڈ نے انتظامات اپنی راست نگرانی میں رکھے ہیں۔ بورڈ کی تحقیقات اور لوکل آڈٹ فنڈ کی جانچ میں لاکھوں روپئے کی بے قاعدگیوں کے انکشاف کے بعد نئی کمیٹی کی تشکیل میں تاخیر کی جارہی ہے۔ گزشتہ 8 ماہ سے بورڈ نے کمیٹی کی تشکیل کو موخر کردیا ہے۔ حالانکہ بورڈ پر مختلف گوشوں سے سیاسی دبائو بنایا جارہا ہے۔ وقف بورڈ کے اجلاس کے بعد میڈیا کے نمائندوں سے بات چیت کرتے ہوئے محمد سلیم نے محبوب نگر وقف کامپلکس کی فائل اور بے قاعدگیوں کی رپورٹ میڈیا کے روبرو پیش کردی۔ انہوں نے کہا کہ گزشتہ کمیٹی میں 68 لاکھ 75 ہزار 512 روپئے کی بے قاعدگیاں کی ہیں۔ نہ صرف رقومات کا بے جا استعمال کیا گیا بلکہ کمیٹی نے اختیارات سے تجاوز کرتے ہوئے ملگیات کرایہ پر دیئے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ وقف بورڈ کے عہدیداروں نے تقریباً 20 دن تک محبوب نگر میں قیام کرتے ہوئے مالیاتی بے قاعدگیوں کی جانچ کی۔ اس کے علاوہ لوک آڈٹ فنڈ نے 2002ء تا 2017ء کے معاملات کی تحقیقات کی اور بے قاعدگیوں کا انکشاف کیا۔ انہوں نے کہا کہ دونوں تحقیقات میں بڑے پیمانے پر دھاندلیوں کے انکشاف کے سبب کمیٹی کی تشکیل کو روک دیا گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ وقف بورڈ نے راست نگرانی میں کامپلکس کے انتظامات کو رکھا ہے اور انسپکٹر آڈیٹر کے ذریعہ آمدنی کے حسابات حاصل کیے جارہے ہیں۔ محمد سلیم نے کہا کہ کمیٹی کی تشکیل کے سلسلہ میں کل بعض افراد ان کے دفتر پہنچے اور غیر مہذب الفاظ کا استعمال کرتے ہوئے حملے کی کوشش کی۔ انہوں نے کہا کہ ان کی گاڑی تک پہنچ کر بدتمیزی کی کوشش کی گئی جس کے بعد پولیس میں شکایت کی گئی۔ انہوںنے کہا کہ پولیس نے مقدمہ درج کرلیا ہے۔ محمد سلیم کے مطابق مختلف قائدین کی جانب سے انہیں فون کرائے گئے کہ وہ شکایت سے دستبرداری اختیار کریں لیکن انہوں نے معاملہ کو قانون پر چھوڑ دیا ہے۔ اگر ایسے عناصر کی سرکوبی نہیں کی گئی تو مستقبل میں غیر سماجی عناصر کی ہمت بڑھ جائے گی۔ صدرنشین وقف بورڈ نے کہا کہ بورڈ کے اجلاس میں ایجنڈے کی کمی کے باوجود اوقافی جائیدادوں کی ترقی کا جائزہ لیا گیا۔ شہر میں کئی قیمتی جائیدادیں ایسی ہیں جن پر ہمہ منزلہ کامپلکس تعمیر کیے جاسکتے ہیں۔ اس سے بورڈ کی آمدنی میں اضافہ ہوگا۔ انہوں نے چیف ایگزیکٹیو آفیسر شاہ نواز قاسم کا استقبال کیا اور کہا کہ وہ ایک دیانتدار عہدیدار ہیں۔ وہ امید کرتے ہیں کہ شاہ نواز قاسم اوقافی جائیدادوں کی ترقی میں اہم رول ادا کریں گے۔ اجلاس میں بورڈ کے ارکان مولانا اکبر نظام الدین، حسینی صابری، ملک معصتم خاں، مرزا انور بیگ، اسد اویسی، معظم خاں، ایم اے وحید، نثار حسین حیدر آغا، تفسیر اقبال آئی پی ایس، صوفیہ بیگم اور زیڈ ایچ جاوید نے شرکت کی۔