محبوب نگر بس حادثہ: والوو بس کے ڈیزائن میں نقص آتشزدگی کا سبب

حیدرآباد۔/26فبروری، (پی ٹی آئی)آندھرا پردیش پولیس کے کرائم انوسٹی گیشن ڈپارٹمنٹ ( سی آئی ڈی ) نے آج کہا کہ گذشتہ سال 30اکٹوبر کو ضلع محبوب نگر کے پالم ٹاؤن کے قریب پیش آئے لکثرری بس حادثہ کی تین اہم وجوہات میں والوو بسوں کا ڈیزائن بھی شامل ہے۔ دوران سفر اُس بس کو آگ لگنے کے نتیجہ میں کم سے کم 45مسافر ہلاک ہوگئے تھے۔ ایڈیشنل ڈائرکٹر جنرل پولیس ( سی آئی ڈی ) پی کرشنا پرساد نے آج یہاں اخباری نمائندوں سے کہاکہ ’’ سی آئی ڈی کی تحقیقات سے پتہ چلا ہے کہ والوو بسوں کے ڈیزائن میں نقائص ہیں جس کے سبب یہ بس یہاں کی سڑکوں پر چلنے کے قابل نہیں ہے۔ یہ ہماری تحقیق ہے اور ہم حکومت ہند کو اس ضمن میں لکھیں گے۔ ہم بہت جلد ایک چارج شیٹ بھی دائر کریں گے جس میں والوو بس کمپنی کو بھی مقدمہ کا ایک ملزم بنایا جائے گا۔‘‘ کرشنا پرساد نے والوو بسوں کے پُرنقص ڈیزائن، سڑکوں کی غلط انجینئرنگ اور ڈرائیور کی غفلت بھی اس حادثہ کی تین اہم وجوہات میں شامل ہیں جس کی دوران تحقیقات نشاندہی ہوئی ہے۔30اکٹوبر2013ء کی شب آندھرا پردیش کے ضلع محبوب نگر میں پالم کے قریب قومی شاہراہ نمبر 44 کے قریب ایک چھوٹے تالاب کی حصار سے ٹکرانے کے سبب خانگی آپریٹر جبار ٹراویلس کی جانب سے چلائی جانے والی والوو بس شعلہ پوش ہوگئی تھی جس میں سوار 45 مسافرین زندہ جھلس کر فوت ہوگئے تھے، اُن میں 19سافٹ ویر انجینئر تھے جن کی نعشیں خاکستر ہوچکی تھیں۔

سی آئی ڈی کے مطابق والوو بس کا ڈیزائن کچھ اس طرح کا ہے کہ 300لیٹر کا بڑا فیول ٹینک، بیاٹری کمپارٹمنٹ سے انتہائی قریب ہے جس سے بس کی دائیں جانب سڑک سے اس کی بہت زیادہ قربت ہوتی ہے۔ غالباً یہی وجہ تھی کہ حصار سے ٹکرانے کے بعد وہاں نصب شدہ آہنی پائپ ٹوٹ گیا اور بس میں گھس گیا جس کے نتیجہ میں بیاٹری کمپارٹمنٹ سے چنگاریاں نکل پڑیں جو پلاسٹک سے بنی ہوئی ایندھن ٹینک میں آگ لگنے کا سبب بنی۔ کرشنا بابو نے کہا کہ’’ حصار سے ٹوٹ کر بس میں گھسنے پائپ نے بس میں ایندھن پھیلانے کا کام کیا۔ ساری بس کا اندرونی حصہ پی وی سی میٹریل کا بنا ہوا تھا جو انتہائی اشتعال انگیز ہوتا ہے اور نہ صرف جلد آگ کو پکڑتا ہے بلکہ بہت تیزی سے آگ پھیلاتا ہے۔ مزید برآں بس میں زیادہ سے زیادہ مسافرین کو بھرتے ہوئے زیادہ سے زیادہ مال بٹورنے کے مقصد سے بس کے اندرونی ڈیزائن میں مالکین اور آپریٹر نے ترمیم کی تھی اور قواعد کی خلاف ورزی کرتے ہوئے ایمرجنسی ایگزٹ ڈورس کو مسافر سیٹوں کے ذریعہ بند کردیا گیا تھا۔

انہوں نے کہا کہ بس تیار کرنے والی کمپنی والوو، بس مالکین دیواکر روڈ لائنس اور بس آپریٹر جبار ٹراویلس نے اس بس کو انسانی زندگی کیلئے انتہائی خطرناک بنادیا تھا۔ انہوں نے کہا کہ تحقیقات نے بتادیا کہ جبار ٹراویلس اور دیواکر روڈ لائنس کے مالکین نے مختلف تواریخ پر تحریر کردہ جعلی لیز اگریمنٹ تیار کئے تھے۔ اس دوران آندھرا پردیش سی آئی ڈی نے جو اس بس کے المناک حادثہ کی تحقیقات کررہی ہے، آج دو افراد کو گرفتار کرلیا جس میں کانگریس کے رکن اسمبلی اور سابق وزیر جے سی دیواکر ریڈی کے بھائی جے سی پربھاکر ریڈی کی بیوی جے سی اوما ریڈی اور منیجر یسین عبدالرحمن کو گرفتار کرلیا۔ دیواکر روڈ لائنس کی اونر کی حیثیت سے اوما ریڈی کا نام درج ہے۔ کرشنا پرساد نے کہا کہ ان دو گرفتاریوں کے ساتھ گرفتار شدگان کی تعداد 9تک پہنچ گئی ہے جن میں ڈرائیور فیروز باشا اور جبار ٹراویلس کے ایک مالک شاہین جبار اور چند ملازمین بھی شامل ہیں۔