محمد عبدالرحیم کی تنہا کوششوں پر حکومت کا مثبت اقدام، یادگار ،رعایا پرور بادشاہ کی خدمات کو حقیقی خراج
حیدرآباد ۔ 7 مارچ ۔ آصفجاہی حکمرانوں نے حیدرآباد دکن میں رعایا پروری کی ایسی مثالیں قائم کی ہیں، جس کا تصور آج کے جمہوری دور میں اقتدار پر فائز ہونے والے سیاستداں نہیں کرسکتے۔ اس دور میں حکمرانوں کی نیک دلی کے باعث کوئی بھوکا نہیں سویا کرتا تھا۔ ہندو، مسلم، سکھ، عیسائی سب کے ساتھ یکساں سلوک۔ ان حکمرانوں کی بیشمار خوبیوں میں سے ایک خوبی ہے۔ آصفجاہی حکمرانوں نے بلالحاظ مذہب و ملت، رنگ و نسل باصلاحیت لوگوں کی حوصلہ افزائی کی جن میں غیر مسلموں کی کثیر تعداد شامل ہے۔ تلنگانہ کے چیف منسٹر مسٹر کے چندرشیکھر راؤ بھی آصفجاہی حکمرانوں خاص کر آصفجاہ ششم نواب میر محبوب علی خاں بہادر اور آصفجاہ سابع نواب میر عثمان علی خاں بہادر کی رعایا پروری کے علاوہ متحدہ آندھراپردیش کی ترقی میں ان کے رول کی ستائش کرتے رہتے ہیں۔ قارئین … شہر حیدرآباد سے 62 میل کے فاصلہ پر ضلع محبوب نگر ہے۔ اس ضلع کو رقبہ کے لحاظ سے ریاست تلنگانہ کا سب سے بڑا ضلع تسلیم کیا جاتا ہے۔ اس ضلع کی سب سے اہم بات یہ ہیکہ اسے نظام ششم نواب میر محبوب علی خاں بہادر سے موسوم کیا گیا تھا جس کے نتیجہ میں یہ ضلع ساری ریاست حیدرآباد دکن میں خاص اہمیت اختیار کر گیا تھا۔ اس وقت حیدرآباد دکن میں ٹاملناڈو، مہاراشٹرا اور کرناٹک کے کچھ اضلاع بھی شامل تھے۔ نواب میر محبوب علی خاں کی غریب پروری کے بارے میں کئی کہانیاں اب بھی سنی جاتی ہیں۔ سابق چیف منسٹر این ٹی راما راؤ نے تاریخی حسین ساگر پر آندھراپردیش کے جن 34 اہم شخصیتوں کے مجسمے نصب کرائے تھے، ان میں نواب میر محبوب علی خاں کا مجسمہ بھی شامل ہے لیکن جمہوریت کی آمد کے بعد قلب شہر میں ان کی کوئی ایسی یادگار قائم نہیں کی گئی جو نظام ششم کے شایان شان ہو۔ تاہم محبوب نگر میں صرف ایک شخصیت محمد عبدالرحیم نے حکومت تلنگانہ کو نواب میر محبوب علی خاں بہادر کی یادگار قائم کرنے کیلئے حکومت تلنگانہ کو سرکاری اراضی الاٹ کرنے پر مجبور کردیا جو محبوب نگر کے بیچوں بیچ واقع ہے۔ محمد عبدالرحیم نظام ششم نواب میر محبوب علی خاں بہادر فاؤنڈیشن کے سربراہ ہیں۔ حکمراں جماعت ٹی آر ایس سے تعلق رکھنے والے محمد عبدالرحیم پر محبوب علی پاشاہ کی یادگار قائم کرنے کا جنون سوار ہے۔ چنانچہ انہوں نے تنہا ان کوششوں کا آغاز کیا اور بالآخر کے سی آر حکومت نے ٹاؤن کے مرکزی مقام پر محبوب علی پاشاہ کی یادگار قائم کرنے کیلئے 80 مربع گز اراضی الاٹ کردی۔ اس ضمن میں محبوب نگر کی سابق ضلع کلکٹر محترمہ بی ڈی پریہ درشنی آئی اے ایس نے 3 ڈسمبر 2014ء کو اپنے ایک مکتوب کے ذریعہ محمد عبدالرحیم کو حکومت کے فیصلہ سے واقف کرایا۔ جس کے ساتھ ہی انہوں نے فاؤنڈیشن کی نائب صدر نصرت خاتون، سکریٹری عبدالعزیز، خازن محمد عبدالرحمن، اراکین محمد عبدالمجید (اڈوائزر)، خواجہ نظام الدین اور محمد ذکی کے ساتھ اس اراضی پر یادگار قائم کرنے کی تیاریاں شروع کردی ہیں۔ افسوس اس بات کا ہیکہ حکومت نے اراضی تو الاٹ کی ہے لیکن یادگار قائم کرنے کسی بجٹ کا اعلان نہیں کیا۔ یہاں اس بات کا تذکرہ ضروری ہوگا کہ محبوب نگر کا علاقہ ماضی میں ستواہنا، چالوکیہ اور قطب شاہی سلطنتوں کے زیراثر بھی رہا لیکن آصفجاہی دورحکومت میں اسے کافی ترقی دی گئی۔ اس ضلع میں بے شمار مساجد، اوقافی جائیدادیں، درگاہیں، گرجاگھر اور منادر ہیں۔ ضلع کی خواندگی کی شرح 56.06 فیصد پائی جاتی ہے۔ محمد عبدالرحیم نے بتایا کہ انہوں نے محبوب نگر میں محبوب علی پاشاہ کی یادگار قائم کرنے کی جو تحریک شروع کی اسے کامیابی تو ملی ہے لیکن حکومت نے اس کیلئے کوئی بجٹ مختص نہیں کیا ہے جس کے نتیجہ میں انہوں نے عوامی خرچ پر یادگار قائم کرنے کا بیڑا اٹھایا ہے اور انہیں اس کام میں بلالحاظ مذہب و ملت عوام کی تائید و حمایت حاصل ہے۔ بہرحال محمد عبدالرحیم نے اپنی کوششوں کے ذریعہ یہ ثابت کردیا ہیکہ اگر کوئی کام سنجیدگی سے کیا جائے تو وہ ضرور پائے تکمیل کو پہنچ سکتا ہے۔